Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3404

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي نَوْمٍ نَامَهُ،فَأَعْتَقَتْ عَنْهُ عَائِشَةُ أُخْتُهُ رِقَابًا كَثِيرَةً. رَوَاهُ مَالِكٌ.

وعن يحيى بن سعيد قال: توفي عبد الرحمن بن أبي بكر في نوم نامه،فأعتقت عنه عائشة أخته رقابا كثيرة. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن ابن ابوبکر سوتے میں وفات پاگئے ۲؎ان کی بہن عائشہ صدیقہ نے انکی طرف سے بہت غلام آزاد کیے۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں تابعی ہیں،آپ سے امام مالک ہشام ابن عروہ،سفیان ثوری جیسے آئمہ حدیث نے احادیث لی ہیں بڑے عالم متقی صالح شب بیدار عبادت گزار تھے۔
۲
؎آپ عائشہ صدیقہ کے بھائی ہیں،صلح حدیبیہ کے سال ایمان لائے،اسلام سے پہلے ان کا نام عبد الکعبہ یا عبد العزی تھا بعد اسلام عبد الرحمن نام رکھا گیا صدیق اکبر کی سب اولاد میں آپ ہی بڑے ہیں سوتے میں اچانک وفات پا گئے۔
۳
؎جناب عائشہ صدیقہ کو آپ کی وفات پر بہت صدمہ ہوا کیونکہ آپ حضرت عائشہ صدیقہ کے سگے بھائی تھے حضرت ام رومان کے شکم شریف سے، اچانک وفات پائی،کوئی وصیت وغیرہ نہ کرسکے اس لیے آپ نے علاوہ اور صدقات کے ان کی طرف سے بہت سے غلام بھی آزاد فرمائے۔خیال رہے کہ اچانک موت غافل کے لیے اکی پکڑ ہے کہ اسے توبہ کا وقت نہیں ملتا،عاقل و نیک کار کے لیے اکی رحمت کہ رب اسے بیماری کی تکالیف سے بچالیتا ہے،حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات اچانک ہی ہوئی بحالت نماز جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3404