Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3398

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَن سفينة قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِأُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ فَقُلْتُ: إِنْ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ فَأَعْتَقَتْنِي وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن سفينة قال: كنت مملوكا لأم سلمة فقالت: أعتقك وأشترط عليك أن تخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عشت فقلت: إن لم تشترطي علي ما فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عشت فأعتقتني واشترطت علي. رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کا غلام تھا وہ بولیں کہ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں اور تم پر یہ شرط لگاتی ہوں کہ جب تک جیو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت کرو۲؎میں نے کہا کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی لگائیں تو بھی میں زندگی بھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو نہ چھوڑتا ۳؎چنانچہ انہوں نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی ۴؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام رباح یا مہربان یا رومان ہے فارسی النسل ہیں،مشہور ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے غلام ہیں۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرت ام سلمہ کے غلام ہیں ہوسکتا ہے کہ حضور انور کے غلام ہوں آپ نے جناب ام سلمہ کو مرحمت فرمایا ہو،کسی سفر میں ایک شخص تھک گیا تو اس نے اپنی تلوار،ڈھال نیزہ وغیرہ بہت سی چیزیں ان پر ڈال دیں،حضور نے فرمایا تم تو سفینہ یعنی کشتی ہو اس دن سے آپ کا لقب سفینہ ہوگیا۔ آپ کے چار بیٹے ہیں: عبدالرحمن،محمد زیاد اور کثیر ان سب سے روایات لیں، آپ ہی کا واقعہ ہے کہ عہد فاروقی میں ایک جنگل میں ایک شیر نے آپ پر حملہ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا اے ابو سائب میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کا غلام ہوں راستہ بھول گیا ہوں تو وہ شیر کتے کی طرح دم ہلاتا آپ کے آگے آگے چل دیا جیسا کہ اسی مشکوۃباب الکراماتمیں آئے گا۔ان شاءاﷲ!۲؎یعنی تم کو آزاد بالشرط کرتی ہوں کہ تم بعد آزادی ہمیشہ حضور کی خدمت کرنا۔معلوم ہوا کہ عتق بالشرط جائز ہے،اس میں اختلاف ہے کہ غلام کو اس شرط کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں اوراگر نہ پوری کرے تو اس پر کچھ تاوان ہے یا نہیں،حق یہ ہے کہ ضرور پوری کرے کہ وعدہ کرچکا ہے،وعدہ پورا کرنا ضرور ہے۔
۳
؎یعنی میں بغیر شرط لگائے بھی ان کا زندگی بھر غلام بے دام ہوں،چنانچہ حضرت سفینہ عمر بھر حضور کے بلکہ حضور کے صحابہ کرام کے خادم رہے۔
۴
؎شارحین فرماتے ہیں کہ یہ شرط بمعنی وعدہ ہے ورنہ شرط جزا سے پہلے ہوتی ہے اور یہاں خدمت آزادی کے بعد ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3398