Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3393

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه.

عن الحسن عن سمرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من ملك ذا رحم محرم فهو حر". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خواجہ حسن بصری سےوہ حضرت سمرہ سے وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو اپنے ذی رحم محرم کا مالک ہوجائے ۱؎تو وہ آزاد ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ذی رحم وہ قرابتدار ہے جس سے نسبی رشتہ ہو اور محرم وہ جس سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو لہذا داماد محرم تو ہے مگر ذی رحم نہیں اور چچا زاد بھائی ذی رحم ہیں مگر محرم نہیں اور باپ بھائی بھتیجے چچا وغیرہ ذی رحم بھی ہیں محرم بھی۔
۲
؎یعنی اگر کوئی شخص اپنے ذی رحم محرم کو خرید لے یا کسی اور طرح اس کی ملکیت میں آجائے تو آتے ہی آزاد ہوجائے گا یہ ہی مذہب ہے جمہور صحابہ و تابعین کا ،یہ ہی قول ہے امام اعظم ابو حنیفہ واحمد کا رضی اعنہم، امام شافعی کے ہاں اپنے اصول و فروع کا تو یہ حکم ہے باقی بھائی بہن وغیرہ ذی رحم کا یہ حکم نہیں مگر قوی قول امام اعظم کا ہے جیسا کہ اس حدیث کے اطلاق سے معلوم ہوا۔
۳
؎اس حدیث کو احمد و حاکم نے باسناد صحیح نقل فرمایا،نیز حضرت عمر سے موقوفًا بھی مروی ہے ،نسائی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا نقل فرمائی،سنن اربعہ نے حضرت سمرہ سے مرفوعًا روایت کی،طحاوی شریف نے حضرت عمرو ابن عمر سے مرفوعًا روایت کی۔مبسوط میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ میرا بھائی بازار میں فروخت ہورہا تھا میں نے اسے خریدلیا میں چاہتا ہوں کہ اسے آزاد کردوں،حضور نے فرمایا اسے تو اتعالٰی نے ہی آزاد کردیا،بہرحال یہ حدیث بے شمار اسنادوں سے مروی ہے عام صحابہ کرام کا اس پر عمل رہا۔(مرقات و لمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3393