Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3397

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ غُلَامٍ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"لَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ" فَأَجَازَ عِتْقَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي المليح، عن أبيه: أن رجلا أعتق شقصا من غلام، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال:"ليس لله شريك" فأجاز عتقه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالملیح ۱؎سے وہ اپنے والد سے راوی کہ ایک شخص نے ایک غلام کا حصہ آزاد کردیا ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں یہ عرض کیا گیا تو فرمایا کہ اکا کوئی شریک نہیں ۳؎پھر اس کی آزادی کو جائز رکھا ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،آپ کا نام عامر ابن اسامہ ابن عمیر ہے،ہذلی ہیں، بصری ہیں، بہت سے صحابہ سے ملاقات ہے،آپ کے والد اسامہ ابن عمیر صحابی ہیں۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص پورے غلام کا مالک تھا مگر آزاد کیا اس کا آدھا یا چوتھائی باقی اپنی ملک میں رکھا،یہ مطلب نہیں کہ اس کے چند شخص مالک تھے ان میں سے ایک نے اپنا حصہ آزاد کردیا۔
۳
؎یعنی اس غلام کا کچھ حصہ تو اللہ کے لیے آزاد ہوگیا اور کچھ حصہ تیرا رہا، یہ صورت رب تعالٰی کے ساتھ شرکت ہے یہ بہتر نہیں، بہتر یہ ہی ہے کہ پورے غلام کو آزاد کر۔
۴
؎یعنی اسے حکم دیا کہ پورا غلام آزاد کردے اس نے ایسا ہی کیا،یہ حکم استحبابی تھا جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں،امام اعظم غلام کی عتق کے تجزیہ و تقسیم کے قائل ہیں،یعنی ان کے ہاں ہوسکتا ہے کہ ایک غلام کا بعض حصہ آزاد ہو بعض غلام۔ جو علماء فرماتے ہیں کہ عتق کی تقسیم نہیں ہوسکتی،بعض کی آزادی کل کی آزادی ہے وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر یہ استدلال کمزور ہے پچھلی احادیث اس کے خلاف گزر چکیں،چنانچہ مسلم،بخاری کی روایت گزر چکیعتق منہ ماعتق۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3397