Main Icon

باب:مشترک غلام آزادکرنے ۱؎ اور قرابتدار کو خریدنے ۲؎ اور بیماری میں آزادکرنے کا بیان ۳؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3400

آزادی کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ وَفَاءٌ فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا كان عند مكاتب إحداكن وفاء فلتحتجب منه". رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسو ل اصلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے کسی کے مکاتب کے پاس جب پورا کرنے کا مال ہوتو وہ اس سے پردہ کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر بی بی نے اپنے غلام کو مکاتب کیا غلام کے پاس کتابت کا مال جمع ہوگیا مگر ابھی اس نے ادانہیں کیا ہے تو اس بی بی کو چاہیے کہ اس سے پردہ کرنے لگے کیونکہ اب وہ آزاد ہوجانے پر قادر ہوچکا ہے اس کی آزادی قریب ہے،انہی ام سلمہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے غلام نبہان سے پوچھا کہ تیری کتابت کے مال سے کس قدر باقی ہے وہ بولے دو ہزار درہم فرمایا کیا وہ تیرے پاس ہیں؟ بولے ہاں،فرمایا ادا کردے اور جا تجھے سلام ہے،یہ کہہ کر آپ نے پردہ ڈال لیا وہ رونے لگے کہ میں آپ کے دیدار سے محروم ہوگیا میں تو یہ رقم کبھی ادا نہ کروں گا،آپ بولیں بیٹے اب تم مجھے کبھی نہ دیکھ سکو گے ہم سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہی فرمایا ہے،یہ حکم یا تو ازواج پاک کے لیے خصوصی تھا یا دوسری عورتوں کو بھی استحبابی ہے ورنہ جب تک کہ مکاتب پائی پائی ادا نہ کردے تب تک وہ غلام ہے اس سے مولاۃ کا پردہ واجب نہیں،یا یہ مطلب ہے کہ پردہ کرنے کی تیاری کرے۔(اشعہ و مرقات)خیال رہے غلام اور اس مالکہ بی بی مولاۃ میں پردہ نہیں جب غلام آزاد ہوجائے تو اس سے مولاۃ کا پردہ واجب ہے اورجب آزادی کے قریب ہوجائے تو اس حدیث کی رو سے پردہ بہتر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3400