Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1615

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن حَارِثَةَ بْنِ مُضَرَّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوٰى سَبْعًا فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ” -- لَتَمَنَّيْتُهُ. وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْلِكُ دِرْهَمًا وَإِنَّ فِي جَانِبِ بَيْتِيَ الْآنَ لَأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِكَفَنِهٖ فَلَمَّا رَآهُ بَكٰى وَقَالَ لَكِنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُوجَدْ لَهٗ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ إِذَا جُعِلَتْ عَلیٰ رَأْسِهٖ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ وَإِذَا جُعِلَتْ عَلیٰ قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهٖ حَتّٰى مُدَّتْ عَلیٰ رَأْسِهٖ وَجُعِلَ عَلیٰ قَدَمَيْهِ الْإِذْخِرُ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ إِلَّا أَنَّهٗ لَمْ يُذْكَرْ: ثُمَّ أُتِيَ بِكَفْنِهِ الٰى آخِرِهٖ

عن حارثة بن مضرب قال: دخلت علی خباب وقد اكتوى سبعا فقال: لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “لا يتمن أحدكم الموت” -- لتمنيته. ولقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أملك درهما وإن في جانب بيتي الآن لأربعين ألف درهم قال ثم أتي بكفنه فلما رآه بكى وقال لكن حمزة لم يوجد له كفن إلا بردة ملحاء إذا جعلت علی رأسه قلصت عن قدميه وإذا جعلت علی قدميه قلصت عن رأسه حتى مدت علی رأسه وجعل علی قدميه الإذخر. رواه أحمد والترمذي إلا أنه لم يذكر: ثم أتي بكفنه الى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حارثہ ابن مضرب سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت خباب کے پاس گیا ۱∞؎جنہیں سات داغ دیئے گئے تھے فرمایا اگر میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا نہ ہوتا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے تو میں اس کی آرزو کرتا ۲؎میں نے اپنے کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میں ایک درہم کا مالک نہ تھا اور آج میرے گھر کے کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں ۳؎فرماتے ہیں پھر ان کا کفن لایا گیا اسے دیکھا تو روئے ۴؎اور بولے کہ جناب حمزہ کو کفن بھی نہ ملا سوا اس دھاری دار چادر کے جو اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو قدموں سے کھل جاتی اور قدموں پر ڈالی جاتی تو سر سے کھل جاتی حتی کہ ان کے سر پر چادر ڈالی گئی اور قدموں پر گھاس ۵؎(احمد،ترمذی)لیکن ترمذی نے کفن لانے سے آخر تک واقعہ بیان نہ کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎حارثہ عبدی ہیں،کوفی ہیں،مشہور تابعی ہیں،حضرت علی،ابن مسعود وغیرہم سے ملاقات ہے اور حضرت خباب ابن ارت تمیمی ہیں،مشہورصحابی ہیں، ۶ھ میں ہی ایمان لائے،کافروں کے ہاتھوں بہت ایذاءپائی،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے، ۳۷ھ میں وفات ہوئی،حضرت علی مرتضٰی نے نماز جنازہ پڑھائی،کوفہ میں مزار ہے،ایک بار حضرت علی آپ کی قبر پر گئے تو فرمایا اے خباب! الله تم پر رحم فرمائے تم رغبت سے ایمان لائے،خوشی سے مہاجر بنے،غازی بن کر جیئے،بیماری میں بہت مبتلا رہے، الله تمہارا اجرضائع نہ کرے گا۔۲؎یعنی میں اتنا سخت بیمار ہوں کہ جسم زخموں سےچھلنی ہے،سات جگہ گرم لوہے سے داغا جاچکاہے،تمنائے موت کو دل چاہتا ہے مگرحضورصلی الله علیہ وسلم کا فرمان مانع ہے۔خیال رہے کہ داغ زخم کا آخری علاج ہے،جب کوئی دوا کارگر نہ ہو توگرم لوہے سے داغ دیتے ہیں۔۳؎حضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں اکثر صحابہ فقر و فاقہ میں تھے،خلافت فاروقی وعثمانی میں صحابی پر دنیا خدا کے فضل سے پھٹ پڑی تب ان کی مالداری حساب سے وراءہوگئی کیونکہ سارے ممالک انہی خلافتوں میں فتح ہوئے،آپ اسی جانب اشارہ فرماتے ہیں یعنی مجھے یہ خوف ہے کہ یہ مالداری ہمارے اعمال کا بدلہ نہ ہوگئی ہو۔۴؎کیونکہ کفن بہت قیمتی اور نفیس تھا اسے دیکھ کر آپ کو حضرت حمزہ کی بیکسی کی شہادت یاد آگئی۔۵؎یعنی مرد کے لیے کفن سنت تین کپڑے ہیں اور کفن ضرورت صرف ایک مگر حضرت حمزہ جو سیدالشہداء اورحضورصلی الله علیہ وسلم کے جان نثار چچا ہیں مجھ سے افضل تھے انہیں کفن ضرورت بھی نہ ملا بہتر ہوتا کہ میں بھی انہی کی طرح دفن ہوتا۔اس سےمعلوم ہورہا ہےکہ فقیرصابر غنی شاکر سے افضل ہےکیونکہ آپ اس غنا پر افسو س کررہے ہیں اور اس فقر کی تمنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1615