Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1612

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ عَلیٰ شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ: “كَيْفَ تَجِدُكَ؟” قَالَ: أَرْجُوْاللهَ يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنِّي أَخَافُ ذُنُوبِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هٰذَا الْمَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهٗ مِمَّا يَخَافُ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيْبٌ

وعن أنس قال: دخل النبي علی شاب وهو في الموت فقال: “كيف تجدك؟” قال: أرجوالله يا رسول الله وإني أخاف ذنوبي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا يجتمعان في قلب عبد في مثل هذا الموطن إلا أعطاه الله ما يرجو وآمنه مما يخاف” . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کی موت کی حالت میں تشریف لے گئے تو فرمایا کہ تو اپنےکو کیسا پاتاہے ۱∞؎اس نے عرض کیا یارسول الله میں الله سے امیدکررہا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈررہا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دوچیزیں بندے کے دل میں اس جیسی حالت میں جمع نہیں ہوتیں مگر الله اسے اس کی امید دیتاہے اور ڈراؤنی چیزسے امن دیتاہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تیرے دل کا کیا حال ہے خوش ہے یا غمگین،مطمئن ہے یا پریشان،آس میں ہے کہ یاس میں،اسے ڈر ہے یا امید۔خیال رہے کہ امتی کی وفات کے وقت اب بھی حضورصلی الله علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں،اسے کلمہ سکھاتے ہیں جیسا کہ باربار دیکھا گیا ہے۔۲؎یعنی بوقت موت مؤمن کا حال ڈوبتے ہوئے کی طرح چاہئیے جسے ایک موت نیچےکرتی ہے دوسری اوپر،گناہوں میں غورکرکے غیرت میں ڈوب جائے،رب کی رحمت میں سوچ کر تر جائے ایسے کو رب پکڑتا نہیں معافی دے دیتا ہے۔خیال رہے کہمَوْطِنیاظرف مکان ہے یا زمان جیسے مقتلِ حسین یعنی امام حسین کی شہادت کی جگہ یا وقت،لفظ مثل زائد ہے یا مبالغہ کے لیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1612