Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1608

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهٖ: “اسْتَحْيُوا مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ” قَالُوا: إِنَّا نَسْتَحْيِي مِنَ اللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ قَالَ: “لَيْسَ ذٰلِكَ وَلَكِنَّ مَنِ اسْتَحْيٰى مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعٰى وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا حَوٰى وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتُ وَالْبِلٰى وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيٰى مِنَ اللهِ حَقَّ الْحَيَاءِ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن مسعود أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم لأصحابه: “استحيوا من الله حق الحياء” قالوا: إنا نستحيي من الله يا نبي الله والحمد لله قال: “ليس ذلك ولكن من استحيى من الله حق الحياء فليحفظ الرأس وما وعى وليحفظ البطن وما حوى وليذكر الموت والبلى ومن أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحيى من الله حق الحياء” . رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابن مسعود کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا الله سے پوری حیاءکرو انہوں نے عرض کیا یا نبی الله خدا کا شکر ہے کہ ہم الله سے غیرت کرتے ہیں ۱∞؎فرمایا یہ نہیں ہے لیکن جو الله سے پوری غیرت کرے تو وہ سر اور اس میں محفوظ چیزوں اور پیٹ اور اس کے اندر کی چیزوں کی حفاظت کرے اور موت اور گل جانے کو یاد رکھے ۲؎جو آخرت چاہتاہے وہ دنیا کی زینت چھوڑ دیتا ہے۳؎جس نے یہ کیا اس نے الله سے پوری غیرت کی۔(احمد، ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے اس کلام میں خطاب صحابہ کرام سے ہے مگر مقصود ساری امت کو سنانا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ کرام کو رب سے غیرت نہ تھی،رب تعالٰی اپنے حبیب سے فرماتا ہے:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللهنیز صحابہ کرام کا یہ جواب نہ ریا کے لیئے ہے نہ شیخی کے لیئے بلکہ توفیق الٰہی کے شکریہ کے طور پر،حضورصلی الله علیہ وسلم سے اپنا حال کہنا ریا نہیں۔۲؎یعنی صرف ظاہری نیکیاں کرلینا اور زبان سے حیا کا اقرار کرنا پوری حیا نہیں بلکہ ظاہری اور باطنی اعضاء کو گناہوں سے بچاناحیاہے۔چنانچہ سرکو غیرخدا کے سجدے سے بچائے،اندرون دماغ کو ریا اورتکبرسے بچائے،زبان،آنکھ اور کان کو ناجائز بولنے،دیکھنے،سننے سے بچائے،یہ سر کی حفاظت ہوئی،پیٹ کو حرام کھانوں سے،شرمگاہ کو زنا سے،دل کو بری خواہشوں سےمحفوظ رکھےیہ پیٹ کی حفاظت ہے۔حق یہ ہے کہ یہ نعمتیں رب کی عطاءاور جناب مصطفےٰ صلی الله علیہ وسلم کی سخا سے نصیب ہوسکتی ہیں۔۳؎یعنی دنیا کی حرام زینتوں سے بچتاہے اور حلال زینتوں میں پھنستا نہیں۔خیال رہے کہ دنیا کی زینت وہ ہے جو دنیا کے لیئے کی جائے،لہذا عید کے دن اچھا لباس،جمعہ کا غسل و خوشبو،سرمہ وغیرہ روضۂ اقدس کی حاضری پر لباس فاخرہ پہننا سب دینی زینتیں ہیں،دنیا کی زینت اور ہے،دنیا میں زینت کچھ اور،پہلی بری ہے،دوسری اچھی۔دوسری کو رب نےزِینتُ اللهفرمایا کہ فرماتاہے:"قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ"اور فرماتا ہے:"خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1608