Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1611

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَوْتُ الْفُجَاءَةِ أَخْذَةُ الْأَسَفِ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ وَرَزِينٌ فِي كِتَابِهٖ: “أَخْذَةُ الأَسْفِ لِلْكَافِرِ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤمِنِ”

وعن عبيد الله بن خالد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “موت الفجاءة أخذة الأسف” . رواه أبو داود وزاد البيهقي في شعب الإيمان ورزين في كتابه: “أخذة الأسف للكافر ورحمة للمؤمن”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید الله ابن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ناگہانی موت غضب کی پکڑ ہے ۱∞؎(ابوداؤد)اوربیہقی نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ بڑھایا کہ کافر کے لیئے غضب کی پکڑہے اور مؤمن کے لیئے رحمت۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہارٹ فیل کی موت غضب رب کی علامت ہےکیونکہ اس میں بندے کوتوبہ،نیک عمل،اچھی وصیت کا موقعہ نہیں ملتا مگر یہ کافر کے لیے ہے،مؤمن کے لیے یہ بھی نعمت ہے جیساکہ آئندہ آرہا ہےکیونکہ مؤمن کسی وقت رب سے غافل رہتا ہی نہیں،دیکھو حضرت سلیمان ویعقوب علیہما السلام کی وفات اچانک ہی ہوئی،حضورصلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اچانک موت مؤمن کے لیئے راحت ہے اور کافر کے لیئے پکڑ۔(لمعات ومرقات)کہ مؤمن اس موت میں بیماریوں کی مصیبت سے بچ جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1611