Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1613

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْإِنَابَةُ” . رَوَاهُ أَحْمدُ

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا تمنوا الموت فإن هول المطلع شديد وإن من السعادة أن يطول عمر العبد ويرزقه الله عز وجل الإنابة” . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ موت کی آرزو نہ کرو کیونکہ اس پہاڑ کی وحشت سخت ہے ۱∞؎اور یہ نیک بختی ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو اور الله اسے رجوع الی الله نصیب کرے ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎مُطَّلَعَ اِطِّلَاعکا ظرف مکان ہے یعنی خبر پانے کی جگہ،اونچا ٹیلہ یا پہاڑ کی چوٹی جہاں دشواری سے پہنچیں مگر وہاں پر سار ے میدان کو دیکھ لیں،چونکہ موت کے وقت انسان دنیا و آخرت دونوں کو دیکھتا ہے اور ہے گھبراہٹ کا وقت،اس لیئے اسےمطلع فرمایا گیا،یعنی دنیوی تکالیف سےگھبرا کر موت نہ مانگوکیونکہ موت کی شدت ان تکالیف سے بہت زیادہ ہے کیابارش سے بھاگ کر پر نالہ کے نیچے کھڑا ہونا چاہتے ہو۔۲؎لمبی عمر اگر گناہوں میں گزرے تو عذاب الٰہی ہے جیسے شیطان کی عمر اور اگر عبادتوں میں گزرے تو رحمت الٰہی ہے جیسے نوح علیہ السلام کی عمر، الله یہ دوسری عمر نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1613