Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1599

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا يَتَمَنّٰى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهٖ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهٗ إِنَّهٗ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ أَمَلُهٗ وَإِنَّهٗ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ الا خَيْرًا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

و عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إنه إذا مات انقطع أمله وإنه لا يزيد المؤمن عمره الا خيرا” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی نہ موت کی آرزو کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے ۱∞؎کیونکہ جب وہ مرجائے گا تو اس کی امیدیں ختم ہوجائیں گی اور مؤمن کی عمر بھلائی ہی بڑھاتی ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎احادیث کی شرح آگے آرہی ہےکہ دنیوی تکالیف سےگھبرا کر موت نہ مانگے کہ اس میں بے صبری ہے اور خدا کی بھیجی مصیبت پر ناراضی،ہاں دینی خطرات کے موقع پر تمنائے موت بھی جائزہے اور دعائے موت بھی۔۲؎یعنی زندگی کا زمانہ تخم بونے کا زمانہ ہے جو کچھ بوئے گا آگے چل کر کاٹےگا۔بدکار اگر توبہ کرے گا تو اسی زندگی میں،نیک کارنیکیاں بڑھائے گا تو اسی زندگی میں۔خیال رہے کہ بعض مؤمن قبرمیں بھی نمازیں پڑھتے ہیں،تلاوتِ قرآن بھی کرتے ہیں مگر ان اعمال پر ثواب نہیں صرف روحانی لذت ہے جیسے فرشتوں کے اعمال پرثواب نہیں بلکہ ان سے ان کی بقا اورلذت ہے، لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں قبر کی عبادتوں کا ذکر ہے اسی لیے مُردوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں کہ زندگی کے عمل پرثواب ملتا ہے جو انہیں بخشاجاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1599