Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1606

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِن شِئْتُمْ أَنْبَأْتَكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللهُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهٗ ؟” قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَقُول للْمُؤْمِنِيْنَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِيْ؟ فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ. فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي ". رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ

عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إن شئتم أنبأتكم ما أول ما يقول الله للمؤمنين يوم القيامة؟ وما أول ما يقولون له ؟” قلنا: نعم يا رسول الله قال: " إن الله يقول للمؤمنين هل أحببتم لقائي؟ فيقولون نعم يا ربنا فيقول: لم؟ فيقولون: رجونا عفوك ومغفرتك. فيقول: قد وجبت لكم مغفرتي ". رواه في شرح السنة وأبو نعيم في الحلية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ قیامت میں الله مسلمانوں سے پہلے کیا فرمائے گا اورمسلمان پہلے کیا عرض کریں گے ۱∞؎ہم نے کہا حضورصلی الله علیہ وسلم ضرور فرمایاجائے فرمایا الله تعالٰی مسلمانوں سے فرمائے گا کیا تم مجھ سے ملنا چاہتے ہوعرض کریں گے ہاں یا رب،فرمائے گا کیوں؟عرض کریں گے کہ ہم تیری معافی اورمغفرت کی آس لگاتے تھے۲؎تب فرمائے گا کہ تمہارے لیئے میری بخشش واجب ہوگئی۳؎شرح سنہ و ابونعیم(حلیہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے حضورصلی الله علیہ وسلم کا علم بھی ثابت ہوا اور امت پر رحمت بھی۔امتحان کے پرچے چھپائے جاتے ہیں اگر امتحان سے پہلے پرچہ ظاہر ہوجائے تو ردکردیاجاتاہے مگر اس پیارے نبی نے امتحان قبر کے پرچے بھی ظاہرکردیئے اور حشر کے دن رب سے ہم کلامی کا پرچہ بھی ظاہر فرمادیا۔مطلب یہ ہے کہ قبر میں منکرنکیر تم سے فلاں فلاں سوال کریں گے تم یہ جواب دے دینا اور حشر میں رب تم سے یہ فرمائے گا تم یہ جواب دینا،یہ گفتگو صورۃً خبر ہے معنًی امر۔یہ ہے حضورصلی الله علیہ وسلم کا علم کہ قبر و حشر کے پرچوں سے خبردار ہیں اور یہ ہے سرکار کی رحمت اپنی امت کے ایسےغمخوار ہیں۔۲؎ملنے سے مراد آخرت کی حاضری ہے یا دیدار الٰہی ،امید وار مجرم حاکم سے ملنا چاہتا ہے اور ناامید بھاگنا چاہتا ہے۔۳؎یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ میں اپنے بندے کے گمانوں کے پاس ہوتاہوں۔خیال رہے کہ بندے کا رب کی لقاچاہنا اس کی علامت ہے کہ رب بھی اس سے ملناچاہتاہے۔بندہ لینے پرحریص ہے،رب دینے کاعادی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1606