Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1607

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “أكثروا ذكر هاذم اللذات الموت” . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیاوی لذتیں ختم کرنی والی موت کا ذکر بہت کیا کرو ۱∞؎(ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎ہرشخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے،سونے وغیرہ کے مزے فناکردیتی ہے،ہاں مؤمن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوت قرآن سے لذت آتی ہے،نیز زیارت قبرکرنے والے سے اُنس ہوتاہے،برزخی لذتیں پاتا ہے جویہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مردے کو تلاوت و ایصال ثواب وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتاکیونکہ یہاں لذتوں سےجسمانی لذتیں مراد ہیں نہ کہ روحانی اوریہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔علماءفرماتے ہیں اور جو روزانہ موت کو یادکرلیاکرے اس کے لیئے درجۂ شہادت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1607