Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1601

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهٗ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهٗ” فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهٖ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: “لَيْسَ ذٰلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللهِ وَكَرَامَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهٗ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ وَأَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهٗ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حَضَرَ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَعَقُوْبَتِهٖ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَهُ اليْهِ مِمَّا أَمَامَهٗ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللهِ وَكَرِهَ اللهُ لِقَاءَهٗ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه” فقالت عائشة أو بعض أزواجه: إنا لنكره الموت قال: “ليس ذلك ولكن المؤمن إذا حضره الموت بشر برضوان الله وكرامته فليس شيء أحب إليه مما أمامه فأحب لقاء الله وأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا حضر بشر بعذاب الله وعقوبته فليس شيء أكره اليه مما أمامه فكره لقاء الله وكره الله لقاءه”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو الله سے ملنا چاہتاہے الله اس سے ملنا چاہتاہے اور جو الله سے ملنا نہیں چاہتا الله اس سے ملنا نہیں چاہتا الله اس سے ملنےکو ناپسند کرتاہے ۱∞؎تب حضرت عائشہ یاحضور کی بعض بیویوں نے کہا کہ ہم تو موت سے گھبراتی ہیں۲؎تو فرمایا کہ یہ مطلب نہیں لیکن جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اسے الله کی رضا اور اسکے احترام کی بشارت دی جاتی ہے تب اسے کوئی چیز اگلے جہان سے پیاری نہیں ہوتی اس پر وہ الله سے ملنا چاہتاہے الله اس سے ملنا چاہتا ہے۳؎اور کافرکو جب موت حاضرہوتی ہے تو اسے الله کے عذاب و سزا کی خبردی جاتی ہے تب اسے اگلے جہان سے زیادہ کوئی شے ناپسند نہیں ہوتی لہذا وہ الله سے ملنا ناپسندکرتا ہے اور الله اس سے ملنا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں الله کو ملنے سے مرادموت ہے کیونکہ موت ہی خدا سے ملنے کا ذریعہ ہے یعنی منہ سے موت مانگنا منع مگر اسے پسند کرنا اچھا۔پسند کرنے کے یہ معنی ہیں کہ دنیا میں دل نہ لگائے اور آخرت کی تیاری کرے،ایسے بندے کو رب پسند کرتاہے، اس کی زندگی بھی خداکو پیاری ہے اور موت بھی،ہر ایک کی زندگی،موت خدا کے ارادے سے ہی ہے مگر اس کی زندگی اور موت رب کے ارادے سے بھی ہے اور اس کی رضا سے بھی،ارادے اور رضا میں بڑا فرق ہے۔۲؎جان کنی کی شدت اور اس کی سختیوں کی وجہ سے،نہ اس لیئے کہ دنیا ہمیں پیاری ہے۔حضورصلی الله علیہ وسلم کی ازواج خصوصًا حضرت عائشہ صدیقہ نے دنیا کی لذتیں دیکھی ہی کہاں،فقروفاقہ میں نہایت سادہ زندگی گزاری،حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد ایک پائی میراث نہ ملی،اٹھارہ سال کی عمرشریف میں بیوگی کی چادر اوڑھ لی اور۵۳ سال کی عمر شریف یونہی گزاری رَضِيَ اللهُ عَنْهَاوعنھن۔۳؎یہ تو عام مؤمنوں کا حال ہے،خواص کو جان کنی کے وقت جمال مصطفی دکھا دیا جاتا ہے،ان کی اس وقت کی خوشی بیان سے باہر ہے،پھر انہیں جانکنی قطعًا محسوس نہیں ہوتی،روح خودبخودشوق میں جسم سے نکل آتی ہے جیساکہ بارہا دیکھا گیا۔۴؎چنانچہ کافرکو موت کے وقت میں تین مصیبتیں جمع ہوجاتی ہیں:دنیا چھوٹنے کا غم،آئندہ مصیبتوں کاخوف،جان نکلنے کی شدت۔غرضکہ مؤمن کی موت عید ہے اور کافر کی موت مصیبت اسی لیئے اولیاء الله کی موت کو عرس کہا جاتا ہے یعنی شادی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1601