Main Icon

باب : موت کی آرزو اور اس کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1600

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهٗ فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِيْ وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه فإن كان لابد فاعلا فليقل: اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سےکوئی آئی ہوئی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمنا نہ کرے پھر اگر کرنا ہی پڑ جائے تو یوں کہے الٰہی جب تک میرے لیئے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیئے موت بہتر ہو تو مجھے موت دے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ احادیث کی شرح ہے کہ بیماری و آزاری سےگھبراکرموت نہ مانگے اورجس طریقہ سے دعا کی اجازت دی گئی ہے نہایت ہی پیارا طریقہ ہےکیونکہ اس خیروشرمیں دین و دنیا کی خیروشرشامل ہےگویا موت کی تمنا کہہ بھی لی مگر قاعدے سے۔خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے خدایا مجھے شہادت کی موت دے،خدایا مجھے مدینہ پاک میں موت نصیب کر۔چنانچہ عمر فاروق نے دعا کی تھی کی مولا مجھے اپنے حبیب کے شہرمیں شہادت نصیب کر،حضرت حفصہ نے عرض کیا کہ یہ کیسے ہوسکے گا تو آپ نے فرمایااِنْ شَاءَاللّٰهُایسے ہی ہوگا۔چنانچہ مسجد نبوی محراب النبی نماز کی حالت میں مصلّائےمصطفی پر آپ رضی الله عنہ کو کافرمجوسی ابو لولو نے شہید کیا۔دعاءکیاتھی کمان سے نکلا ہوا تیر تھا کہ جو کہا تھا وہی ہوا،کیوں نہ ہو رب کی یہ مانتے ہیں رب ان کی مانتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1600