Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 771

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ، كُنَّا نَفْعَلُهٗ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذَا كَانَ فِي الثِّيَابِ، قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذَا وَسَّعَ اللّٰهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكٰى. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي بن كعب قال: الصلاة في الثوب الواحد سنة، كنا نفعله مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ولا يعاب علينا. فقال ابن مسعود: إنما كان ذاك إذا كان في الثياب، قلة، فأما إذا وسع الله فالصلاة في الثوبين أزكى. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں ایک کپڑے میں نمازسنت ہے ۱؎ہم یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرتے تھے اور ہم پر عیب نہ لگایا جاتا تھا تب حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ یہ جب ہی تھا جب کپڑوں میں کمی تھی لیکن جب الله نے گنجائش بخشی تو دوکپڑوں میں نمازبہتر ہے ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں سنت سے مراد لغوی معنی ہیں،یعنی طریقہ کار یا یہ مطلب ہے کہ اس کا جواز سنت سے ثابت ہے،لہذا آپ کے اس فرمان اور سیدنا ابن مسعود کے فرمان میں تعارض نہیں۔
۲
؎یعنی بجائے ایک کے دوکپڑوں میں نمازبہتر ہے۔بعض احادیث میں ہے کہ عمامہ کی نماز بغیر عمامہ کی نماز سے ستّر درجہ افضل ہے،لہذا تین کپڑوں میں نماز بہت بہتر کیونکہ اس حدیث میں قمیض و پائجامہ کا ذکر آیا اس میں عمامہ کا دونوں پرعمل ہے۔و َصَلّٰی اللهُ تَعالٰی عَلٰی خَیْرِخَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحمَّدٍ وَاَصْحَابِہٖ وَ سَلّمْ(احمد یار خان)
(احمد یار خان،خطیب جامع مسجد غوثیہ گجرات،پاکستان)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 771