Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 764

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نَهٰى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- نهى عن السدل في الصلاة،وأن يغطي الرجل فاه. رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے ۱؎اورمرد کے منہ ڈھکنے سے منع کیا۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کپڑا سر یا کندھے پر ڈالنا اور اس کے دونوں کنارے یونہی لٹکتے چھوڑ دینا سدل کہتے ہیں۔اچکن یا کوٹ بغیر بٹن لگائے پہننا بھی سدل میں داخل ہے۔سدل نماز میں مکروہ ہے اگر نیچےاور کپڑا نہ ہو تومکروہ تحریمی ہے ورنہ تنزیہی کیونکہ اس میں کپڑا سنبھالنے میں دل لگا رہتا ہے نماز میں یک سوئی حاصل نہیں ہوتی۔
۲
؎ہاتھ سے یاکپڑے سے کیونکہ اگرنماز میں منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھا ہو تو قرأت صحیح نہ ہوسکے گی۔بعض نے فرمایا کہ عمامہ کا شملہ منہ پر لپیٹنا منع ہے کہ یہ یہود کا فعل ہے،ہاں جس کے منہ سے بو آرہی ہویا بدبودار ڈکاریں،اسے جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 764