Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 758

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهٖ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَمِيطِيْ عَنَّا قِرَامَكِ هٰذَا، فَإِنَّهٗ لَا يَزَالُ تَصَاوِيرُهٗ تَعْرِضُ لِيْ فِيْ صَلَاتِيْ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أنس قال: كان قرام لعائشة سترت به جانب بيتها، فقال لها النبي -صلى الله عليه وسلم-: "أميطي عنا قرامك هذا، فإنه لا يزال تصاويره تعرض لي في صلاتي". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا پردہ تھا جس سے گھر کا ایک گوشہ ڈھانک رکھا تھا ان سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا یہ پردہ ہم سے ہٹالو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آجاتی ہیں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہ غیرجاندار چیزوں کی صورتیں ہوں گی،اور اگر جاندار کے فوٹو بھی ہوں تب بھی شوقیہ یا احترام کے طور پر نہ تھے تاکہ اس پرکراہت کا حکم ہو۔خیال رہے کہ دیواروں پرغلاف ڈالنا جائز ہے اگرچہ بہتر نہیں،لہذا یہ حدیث ممانعت کی روایت کے خلاف نہیں۔شیخ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ الماری یا طاق پرحفاظت اشیاء کے لیے ڈالا گیا ہو،جیسے اب بھی ضرورۃً کیا جاتا ہے کہ بجائے کواڑ،ٹاٹ یا پردہ ڈال دیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 758