Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 766

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهٖ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهٖ، فَلَمَّا رَأٰى ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاتَهٗ قَالَ:"مَا حَمَلَكُمْ عَلٰى إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ؟ " قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ جِبْرِيْلَ أتانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، إِذا جَاءَ أَحَدَكُم الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا فَلْيَمْسَحْهُ وَلِيُصَلِّ فِيْهِمَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: بينما رسول الله -صلى الله عليه وسلم - يصلي بأصحابه إذ خلع نعليه فوضعهما عن يساره، فلما رأى ذلك القوم ألقوا نعالهم، فلما قضى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- صلاته قال:"ما حملكم على إلقائكم نعالكم؟ " قالوا: رأيناك ألقيت نعليك فألقينا نعالنا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إن جبريل أتاني فأخبرني أن فيهما قذرا، إذا جاء أحدكم المسجد فلينظر، فإن رأى في نعليه قذرا فليمسحه وليصل فيهما". رواه أبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے جوتے اتار دیئے اور اپنے بائیں طرف رکھ لئے ۱؎جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے ۲؎جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتار ڈالنے پرکس نے آمادہ کیا عرض کیا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبریل میرے پاس آئے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی ہے ۳؎جب تم میں سے کوئی مسجد میں آیا کرے تو دیکھ لیا کرے اگر جوتوں میں گندگی دیکھے تو انہیں پونچھ دے اور ان میں نماز پڑھ لے۴؎(ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سب کچھ تھوڑی سی حرکت سےہوا ورنہ عمل کثیر نماز کو فاسد کردیتا ہے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کی پیروی بہرحال کی جائے وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔دیکھو صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نعلین اتارتے دیکھا تو بغیر وجہ کی تحقیق کئے جوتے اتار دیئے اورسرکارنے اس اتباع پر اعتراض نہ فرمایا۔ دوسرے یہ کہ صحابہ کرام نماز میں بجائے سجدہ گاہ کے اپنے ایمان گاہ یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کرتے تھے ورنہ انہیں آپ کے اس فعل شریف کی خبر کیسے ہوتی،جیسے مسجدحرم شریف کا نمازی نماز میں کعبہ کو دیکھے ایسے ہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھنے والا نماز میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے۔
۳
؎تھوک،رینٹ وغیرہ گھن کی چیز نہ کہ پلیدی اورنجاست،ورنہ نماز کا لوٹانا واجب ہوتا کیونکہ اگر گندے کپڑے،گندے جوتے میں نماز شروع کردی جائے پھر پتہ لگے تو نماز دوبارہ پڑھنی پڑتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا یہ چیزیں پاک ہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں رب نے جبریل امین کو بھیجا کہ پیارے تمہاری شان کے یہ بھی خلاف ہے تمہارے لباس پاک بھی چاہئیں،ستھرے بھی،لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور نے نماز لوٹائی کیوں نہیں اور نہ یہ اعتراض کہ حضور کو اپنے نعلین کی بھی خبر نہیں اوروں کی کیا خبر ہوگی،جوشہنشاہ زمین پر کھڑے ہوکر اندرون زمین کا عذاب دیکھ لے اور عذاب قبر کی وجہ جان لے اور جو یہ فرمائے کہ نمازصحیح پڑھا کرو،مجھ پر تمہارے رکوع،سجدے،دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں،اس پر اپنے نعلین کا حال کیسے چھپے گا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی اپنے حبیب کی ہرادا کی نگرانی فرماتا ہے کیوں نہ ہوخودفرماتا ہے"فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا"اے محبوب!تم ہماری نظروں میں رہتے ہو۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م عین نماز میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی ادائیں دیکھتے تھے اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے تھے۔
۴
؎ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سرکار اورصحابہ کرام نرم چپل پہنا کرتے تھے جس میں سجدہ بے تکلف ہوجاتا تھا اوریہود کی مخالفت بھی۔ہمارے جوتوں میں نماز جائزنہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جوتا پونچھنے سے پاک ہوجاتا ہے جب کہ دَلْدارنجاست لگی ہو،پیشاب وغیرہ سے بغیر دھوئے پاک نہیں ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 766