Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 763

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِيْ دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ: "إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُوْرَ قَدَمَيْهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَذَكَرَ جمَاعَةً وَقَفُوْهُ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ.

وعن أم سلمة أنها سألت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: أتصلي المرأة في درع وخمار ليس عليها إزار؟ قال: "إذا كان الدرع سابغا يغطي ظهور قدميها". رواه أبو داود، وذكر جماعة وقفوه على أم سلمة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا عورت قمیض اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہےبغیر تہبند کے فرمایا اگر کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو ڈھانپ لے ۱؎(ابوداؤد)اور ایک جماعت نے اسے ام سلمہ پرموقوف کیا۲؎

شرح حدیث

۱∞؎عورت کے پاؤں کی پشت ستر نہیں،اور نہ اس کا چھپانا نماز میں فرض ہے۔قدم کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ یہاں گرنے والا کپڑا پوری پنڈلی کو ڈھانپ لیگا۔
۲
؎یعنی اسے حضرت ام سلمہ کا اپنا قول قرار دیا نہ کہ حضور کا فرمان شریف،لیکن اس قسم کی حدیث موقوف مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے کیونکہ یہ احکام عقل سے نہیں کہے جاتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 763