Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 770

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: صَلّٰى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهٗ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ، وَثِيَابُهٗ مَوْضُوْعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقَالَ لَهٗ قَائِلٌ: تُصَلِّيْ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا صَنَعْتُ ذٰلِكَ لِيَرَانِيَ أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهٗ ثَوْبَانِ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن محمد بن المنكدر قال: صلى جابر في إزار قد عقده من قبل قفاه، وثيابه موضوعة على المشجب، فقال له قائل: تصلي في إزار واحد؟ فقال: إنما صنعت ذلك ليراني أحمق مثلك، وأينا كان له ثوبان على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمدابن منکدرسے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے صرف تہبند(چادر)میں نماز پڑھی جسے گدی کی طرف باندھا تھا ۱؎حالانکہ انکے کپڑے کھونٹی پر رکھے تھے کسی نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ ایک ہی چادر میں نماز پڑھتے ہیں ۲؎تو فرمایا میں نے اس لئے کیا تاکہ مجھے تم جیسے بیوقوف دیکھیں ۳؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سے کس کے پاس دو کپڑے تھے۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سر سے پاؤں تک ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔سروکندھا وغیرہ کچھ کھلا نہ تھا۔لہذا آج کل کے فیشن پرست اس حدیث سے ننگے سر یا ننگے کندھے نماز پر دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
۲
؎یہ سوال تعجب کے لیے ہے۔اس تعجب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنا چھوٹ چکا تھا،تمام صحابہ تین یا دو کپڑوں میں نماز پڑھنے کے عادی تھے۔
۳
؎بے وقوف اس لیے کہا کہ انہوں نے صحابی پر اعتراض کرنے میں جلدی کی۔اگر بزرگوں کا کوئی کام نامناسب معلوم ہوتو انتظارکرنا چاہیئے کہ شاید وہ خود ہی اس کی وجہ بتادیں۔یہی ادب مشائخ اورعلمائے حقانی کی بارگاہوں کا بھی ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۴
؎یعنی اگر صرف ایک کپڑے میں نماز جائز نہ ہوتی تو اس غریبی کے زمانہ میں ہم میں سے کسی کی نماز نہ ہوتی،یعنی میرا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے نہ کہ سستی کے لیے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 770