Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 765

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ ابْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن شداد ابن أوس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خالفوا اليهود فإنهم لا يصلون في نعالهم ولا خفافهم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت کرو وہ نہ جوتوں میں نمازپڑھتے ہیں نہ موزوں میں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،حضرت حسان کے بھتیجے،کنیت ابو یعلٰی ہے،شام میں مقیم رہے،۷۵ سال عمرہوئی، ۵۸ھمیں بیت المقدس میں وفات پائی۔۲∞؎یعنی یہود جوتے یا موزے میں نماز جائزنہیں سمجھتے تم جائزسمجھو۔خیال رہے کہ موزوں میں نماز اداکرنا سنت ہے،لیکن جوتے اگر پاک ہوں اور اتنے نرم کہ سجدہ میں حرج واقع نہ ہو کہ پاؤں کی انگلیاں بخوبی مڑکر قبلہ رو ہوسکیں تو ان میں نمازجائز ہے۔ہمارے ملک کی جوتیاں نماز کے قابل نہیں،نیز اب لوگ صحابہ کرام جیسے با ادب نہیں اگر انہیں جوتوں میں نماز کی اجازت دی جائے تو مصلّے اورمسجدیں گندگی سے بھردیں گے،اس لئے اب جوتے اتارکر ہی مسجدوں میں آنا اورنمازپڑھنا چاہیئے۔(ازمرقاۃ وشامی)اس سے معلوم ہوا کہ بے دینوں کی مخالفت کے لیے جائز کام ضرورکرنا چاہئیں جیسے اس زمانے میں میلاد شریف اور گیارہویں شریف۔مرقاۃ نے فرمایا کہ چونکہ اب یہود ہمارے علاقے میں رہے نہیں،اس لیے اب جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ مسجدیانماز کے ادب کے لیے جوتا اتارنا قرآن شریف سے ثابت ہے،رب فرماتا ہے:"فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی"اے موسیٰ!تم عزت والے جنگل میں ہو جوتے اتار دو۔بعض باادب مرید اپنے شیخ کے شہر میں جوتے نہیں پہنتے۔امام مالک زمین مدینہ میں کبھی گھوڑے یا کسی اورسواری پرسوار نہ ہوئے،ان کے آداب کا ماخذ یہ آیت ہے اور یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 765