Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 759

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَرُّوْجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهٗ ثُمَّ صَلّٰى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهٗ نَزْعًا شَدِيْدًا كَالْكَارِهِ لَهٗ، ثمَّ قَالَ: "لَا يَنْبَغِيْ هٰذَا لِلْمُتَّقِيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عقبة ابن عامر قال: أهدي لرسول الله -صلى الله عليه وسلم- فروج حرير، فلبسه ثم صلى فيه، ثم انصرف فنزعه نزعا شديدا كالكاره له، ثم قال: "لا ينبغي هذا للمتقين". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمیں قبا ہدیۃً پیش کی گئی آپ نے وہ پہنی ۱؎پھراس میں نماز پڑھی پھر فارغ ہوئے تو سختی سے اتار دی اس کو ناپسند کرتے ہوئے پھر فرمایا کہ یہ پرہیز گاروں کو زیبا نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎فروجوہ اچکن کہلاتی ہے جس کاچاک پیچھے سے کھلا ہو۔یہ قبا"دومۃ الجندل"کے بادشاہ اکیدریا سکندریہ کے بادشاہ نے ہدیۃً پیش کی تھی،آپ کا پہن لینا انہیں راضی کرنے کے لیے تھا۔بعض نے فرمایا کہ واقعہ ظہور نبوت سے پہلے کا تھا۔حضور اس وقت بھی نمازیں پڑھتے تھے مگرزیادہ صحیح یہ ہے کہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا ہے،ورنہ حرمت کے بعدحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کبھی نہ پہنا۔خیال رہے کہ مردکو کپڑے کا خاص ریشم کے کپڑے پہننا منع ہے،دریائی یاسن کو منصوعی ریشم حلال۔
۲
؎سبحان الله!یہ ہے حضور کی فطرت سلیمہ کہ ابھی ریشم حرام نہیں ہوا مگر طبیعت پاک میں نفرت پہلے ہی سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 759