Main Icon

باب : سترڈھانپنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 767

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيهِ عَنْ يَمِينِهٖ، وَلَا عَنْ يَسَارِهٖ، فَتَكُوْنَ عَنْ يَمِيْنِ غَيْرِهٖ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُوْنَ عَلٰى يسَارِهٖ أَحَدٌ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "أَوْ لِيُصَلِّ فِيْهِمَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إذا صلى أحدكم فلا يضع نعليه عن يمينه، ولا عن يساره، فتكون عن يمين غيره، إلا أن لا يكون على يساره أحد، وليضعهما بين رجليه". وفي رواية: "أو ليصل فيهما". رواه أبو داود، وروى ابن ماجه معناه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے نہ اپنی دائیں طرف رکھے نہ بائیں طرف ورنہ دوسرے کے دائیں طرف ہوجائیں گے مگر یہ کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو ۱؎انہیں دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے اور ایک روایت میں ہے کہ یا ان میں ہی نماز پڑھ لے۲؎(ابوداؤد)ابن ماجہ نے اس کے معنی روایت کئے۔

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ داہنی طرف رحمت کا فرشتہ ہے جو ہماری نیکیاں لکھتا ہے اورنماز میں وہ اپنا کام کررہا ہے لہذا اس کا ادب کرتے ہوئے نہ ادھرتھوکے نہ جوتے رکھے،ہاں اگر داہنی جانب دور جوتے رکھے ہوں توکوئی حرج نہیں۔
۲
؎اگر پاک اور نرم ہوں۔خیال رہے کہ جوتے میں نماز اورجوتے پرنماز پڑھنے میں فرق ہے،اگر تلے گندگی ہو اور اسے اتارکر اس کے اوپرکھڑے ہوکرنماز پڑھ لے توجائز ہے کہ اب جوتا لباس نہیں بلکہ نماز کی جگہ ہے جس کے اوپرنجاست نہ ہونا کافی ہے جیسے لکڑی کا موٹا تختہ جس کی نچلی سطح ناپاک ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 767