Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6194

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: مَا أُشْكِلَ عَلَيْنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ

عن أبي موسى قال: ما أشكل علينا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حديث قط فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها منه علما. رواه الترمذي. وقال: هذاحديث حسن صحيح غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی حدیث مشکل نہ ہوئی کبھی بھی پھر ہم نے جناب عائشہ سے پوچھا مگر ہم نے ان کے پاس ان کا علم پایا ۱∞؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اصحاب رسول اللہ کو کسی مسئلہ میں کوئی اشکال ہوتا اور وہ مشکل کہیں حل نہ ہوتی تو جناب عائشہ صدیقہ کے پاس حاضر ہوتے ان کے پاس یا تو اس کے متعلق حدیث مل جاتی یا کسی حدیث سے اس مسئلہ کا استنباط مل جاتا۔از آدم تا ایں دم کوئی بی بی ایسی عالمہ فقیہہ پیدا نہ ہوئیں جیسی جناب عائشہ رضی اللہ عنہا ہوئیں،آپ علوم قرآنیہ علوم حدیث کی جامع تھیں،بڑی محدثہ بڑی فقیہہ۔صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں کسی نے عرض کیا کہ اے ام المؤمنین قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حج و عمرہ میں صفا و مروہ کی سعی واجب نہیں صرف جائز ہے کیونکہ رب نے فرمایا:"فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡهِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا"کہ ان کے سعی میں گناہ نہیں،آپ نے جواب دیا اگر یہ سعی واجب نہ ہوتی تو یوں ارشاد ہوتا"لا جناح علیہ ان لایطوف بھما۔دیکھو اس ایک جواب میں اصول فقہ کا کتنا دقیق مسئلہ حل فرما دیا کہ واجب کی پہچان یہ ہے کہ اس کے کرنے میں ثواب نہ کرنے میں گناہ،جائز کی پہچان یہ ہے کہ اس کے نہ کرنے میں گناہ نہ ہو،یہاں آیت میں پہلی بات فرمائی گئی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6194