- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6189
باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6189
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذٰلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ:مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهٖ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ . قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله مِنْ أَذَاكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟ قَالَتْ: بَلٰى.قَالَ: فَأَحِبِّي هَذِهِ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ فِي بَابِ بَدْءِ الْخَلْقِ بِرِوَايَةِ أبي مُوسٰى
وعنها قالت: إن الناس كانوا يتحرون بهداياهم يوم عائشة يبتغون بذلك مرضاة رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقالت: إن نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم كن حزبين: فحزب فيه عائشة وحفصة وصفية وسودة والحزب الآخر أم سلمة وسائر نساء رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلم حزب أم سلمة فقلن لها: كلمي رسول الله صلى الله عليه وسلم يكلم الناس فيقول:من أراد أن يهدي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فليهده إليه حيث كان. فكلمته فقال لها: لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم يأتني وأنا في ثوب امرأة إلا عائشة . قالت: أتوب إلى الله من أذاك يا رسول الله ثم إنهن دعون فاطمة فأرسلن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمته فقال: يا بنية ألا تحبين ما أحب؟ قالت: بلى.قال: فأحبي هذه .(متفق عليه) وذكر حديث أنس فضل عائشة على النساء في باب بدء الخلق برواية أبي موسى
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے تحفوں ہدیوں کے لیے جناب عائشہ کا دن تلاش کرتے تھے اس سے وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی چاہتے تھے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں دو گروہ تھیں ۲؎ایک گروہ وہ جس میں جناب عائشہ اور حفصہ۳؎اور صفیہ۴؎اور سودہ تھیں ۵؎اور دوسری جماعت میں ام سلمہ۶؎اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باقی بیویاں۷؎تو ام سلمہ کے گروہ نے گفتگو کی ان سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کلام کرو کہ آپ لوگوں سے فرمادیں کہ جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو آپ کو ہدیہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں ۸؎چنانچہ ام سلمہ نے حضور سے عرض کیا حضور نے ان سے فرمایا کہ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ دو کیونکہ سواء عائشہ کے کوئی بیوی نہیں جن کے بستر میں ہوں اور وحی آئے ۹؎ام سلمہ نے کہا یارسول اللہ میں آپ کی ایذا رسانی سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں۱۰؎پھر تمام بیویوں نے جناب فاطمہ کو بلایا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ۱۱∞؎انہوں نے حضور سے عرض کیا تو فرمایا اے بچی جس سے میں محبت کرتا ہوں تم ان سے محبت نہیں کرتیں بولیں ہاں فرمایا تو ان سے محبت کرو۱۲؎(مسلم،بخاری)اور حضرت انس کی حدیث کہ عائشہ کی بزرگی ساری عورتوں پر الخباب بدء الخلقمیں ذکر کردی گئی۱۳؎
شرح حدیث
۱∞؎لوگ جانتے تھے کہ حضور کو جناب عائشہ صدیقہ سے بہت محبت ہے ان کے ذریعہ سے جو تحفہ ہمارا حضور تک پہنچے گا وہ حضور کی بارگاہ میں زیادہ قبول ہوگا۔اب بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ جو ایصال ثواب حضور کی بارگاہ میں حاضر کریں حضرت عائشہ صدیقہ کا واسطہ ضرور اختیار کریں ان کا نام ضرور لیا کریں۔
۲؎یعنی حضور انور کی بیویاں اس وقت نو تھیں مگر ان کی دو جماعتیں بنی ہوئیں تھیں ایک جماعت میں چار دوسری میں پانچ کیونکہ ہر بی بی اپنی متفق الخیال بی بی سے وابستہ تھیں۔
۳؎جناب عائشہ صدیقہ کے حالات ہم بیان کرچکے ہیں۔بی بی حفصہ جناب عمر فاروق کی دختر ہیں،آپ کی والدہ زینب بنت مظعون ہیں،پہلے جیش ابن وفافہ کے نکاح میں تھیں وہ غزوہ بدر کے بعد وفات پاگئے، ۳ھ ∞میں حضور انور کے نکاح میں آئیں،آپ کی وفات شعبان ۴۵ھ ∞ پینتالیس میں ہوئی،ساٹھ سال عمر پائی،بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک طلاق آپ کو دے دی تھی پھر رجوع فرمالیا۔(مرقات)
۴؎آپ صفیہ بنت حیی ابن اخطب ہیں،آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،پہلے کنانہ ابن ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں وہ محرم ۷ھ ∞میں غزوہ خیبر میں مارا گیا آپ قید ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں پہلے دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں،پھر حضور انور نے انہیں قبول فرمایا، ۵۰ھ ∞ پچاس میں آپ کی وفات ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔(مرقات)
۵؎آپ سودہ بنت زمعہ ہیں پہلے اپنے چچازاد سکوان ابن عمرو کے نکاح میں تھیں،ان کی وفات کے بعد حضور انور کے نکاح میں آئیں،بی بی خدیجہ کے بعد ان سے حضور نے نکاح کیا ہجرت سے پہلے ہی اور آپ نے اپنی باری آخر میں جناب عائشہ صدیقہ کو ہبہ کردی تھی، ۵۴ھ ∞چون میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۶؎آپ کا نام ہند بنت ابی امیہ ہے،کنیت ام سلمہ،پہلے ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں ۴ھ ∞چار یا تین میں ان کی وفات کے بعد حضور کے نکاح میں آئیں، ۵۹ھ ∞انسٹھ میں وفات پائی،چوراسی سال عمر ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔
۷؎باقی بیویاں حضرت زینب،ام حبیبہ،جویریہ اور میمونہ ہیں گویا پانچ ازواج کی جماعت یہ تھیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔بی بی زینب کا پہلا نام برہ تھاحضور نےزینب رکھا،آپ بنت جحش ہیں،آپ کی ماں امیّہ بنت عبدالمطلب ہیں حضور کی پھوپھی،آپ پہلے زید ابن حارثہ کے نکاح میں آئیں،ان کی طلاق کے بعد ۵ھ ∞میں حضور کے نکاح میں آئیں،حضور انور کے بعد تمام بیویوں سے پہلے آپ کا انتقال ہوا،بڑی سخی خوف خدا والی تھیں، ۲۰ھ ∞میں آپ کی وفات ہوئی،تریپن سال عمر شریف ہوئی،بقیع میں دفن ہوئیں۔ ام حبیبہ کا نام رملہ تھا،آپ ابو سفیان ابن صخر ابن حرب کی بیٹی ہیں،آپ کی والدہ صفیہ بنت ابوالعاص ہیں یعنی عثمان غنی کی پھوپھی،نجاشی بادشاہ نے آپ کا نکاح حضور سے کیا غائبانہ کہ آپ حبشہ میں تھیں حضور انور مدینہ منورہ میں نکاح ہوگیا،خود نجاشی نے چار سو دینار یا بارہ ہزار درہم مہر دیا۔حضور انور نے شرحبیل ابن حسنہ کے ذریعہ انہیں حبشہ سے مدینہ منورہ بلایا،بی بی جویریہ بنت حارث ابن خرام غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنی مصطلق ۵ھ ∞پانچ میں قید ہوکر آئیں، حضرت ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں،انہوں نے آپ کو مکاتبہ کردیا انکی کتابت حضور نے ادا کی پھر آزاد کرکے نکاح میں لے لیا،آپ کا نام بھی برہ تھا جو حضور نے بدل کر جویریہ رکھا،ربیع الاول ۵۶ھ ∞چھپن میں وفات ہوئی، ۶۵ھ ∞پینسٹھ سال عمر ہوئی۔بی بی میمونہ بنت حارث بلالیہ عامریہ آپ کا نام بھی برہ تھا،حضور نے میمونہ رکھا آپ پہلے مسعود ابن عمرو ثقفی کے نکاح میں تھیں،آپ ان سے الگ ہوکر ابو درہم کے نکاح میں آئیں،ان کی وفات کے بعد حضور انور کے نکاح میں آئیں ذی قعدہ ۷ھ∞عمرہ قضاء میں مقام سرف میں آپ سے حضور نے نکاح کیا وہاں ہی زفاف ہوا اور وہاں ہی آپ کی وفات و قبر واقع ہوئی،جس جگہ زفاف ہوا وہاں ہی قبر بنی۔ سرف مکہ معظمہ سے دس میل ہے،آپ حضرت عباس کی سالی عبداللہ ابن عباس کی خالہ ہیں اسماء بنت عمیس کی بہن ہیں۔ (مرقات)
۸؎یعنی ام سلمہ کے گروہ نے حصرت ام سلمہ کو اپنا نمائندہ بنا کر حضور کی خدمت میں بھیجا کہ حضور انور لوگوں سے علانیہ فرمادیں کہ جو بھی کوئی ہدیہ بھیجنا چاہے وہ بھیج دیا کرے حضور جہاں بھی ہوں حضرت عائشہ کی باری کا انتظار نہ کیا کرے۔
۹؎یعنی ہمارے صحابہ کا رجحان قلبی جناب عائشہ کی طرف اتفاقی نہیں بلکہ من جانب اللہ ہے،اللہ کی وحی بھی صرف انہیں کے بستر میں آتی ہے تم میں سے کسی کے بستر میں نہیں آتی،جب ربانی تحفہ انہی کے بستر میں آتا ہے تو اگر مخلوق کا تحفہ انہی کے گھر میں آئے تو کیا بعید۔چنانچہ آیت"اِنَّكَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ"حضرت عائشہ کے بسترمیں آئی۔ (مرقات)ہم نے عرض کیا ہے۔شعر
ان کے بستر میں وحی آئے رسول اللہ پر اور سلام خادمانہ بھی کریں روح الامین
۱۰؎یہ ہے حضرت ام سلمہ کا ایمان آپ سمجھیں کہ حضرت عائشہ کی ایذا حضور انور کی ایذا ہے اور حضور کی ایذا رب تعالٰی کی ایذا ہے،یہ کفر یا کفر کا باعث ہے۔
۱۱∞؎وہ بیویاں یہ سمجھیں کہ شاید ام سلمہ کے کہنے سے حضور انور کو ایذا ہوتی ہو جناب فاطمہ کے عرض کرنے سے ایذا نہ ہوگی لہذا یہ اعتراض نہیں کہ ازواج مطہرات نے حضور کی ایذا کیوں گوارا کی۔
۱۲؎یعنی اے فاطمہ تم عائشہ صدیقہ سے محبت و الفت کرو اور کوئی بات ایسی نہ کرو جو انہیں تکلیف دے کیونکہ انکی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے محبت حضور انور سے محبت ہے،ان سرکار سے عداوت حضور سے عداوت ہے،ان سرکار کی تکلیف حضور کی تکلیف ہے۔
۱۳؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں مذکور تھی ہم نے اس باب میں بیان کردی اور مرآت میں وہاں ہی یہ عرض کردیا گیا کہ ثرید یعنی روٹی شوربا بوٹیاں ایک جان کی ہوئی بہترین غذا ساری غذاؤں سے افضل کہ وہ زود ہضم،نہایت ہی مقوی،بہت مزے دار،چبانے سے بے نیاز،بہت صفات کی جامع غذا ہے ایسے ہی حضرت عائشہ صورت سیرت،علم عمل،فصاحت فطانت، ذکاوت، عقل،حضور کی محبوبیت وغیرہ ہزارہا صفات کی جامع ہیں۔حق یہ ہیں کہ آپ ساری عورتوں حتی کہ خدیجۃ الکبریٰ سے بھی افضل ہیں،آپ بہت احادیث کی جامع علوم قرآنیہ کی ماہر بی بی ہیں رضی اللہ عنہا۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6189