Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6192

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ لَاِبْنةُ نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللّٰهَ يَا حَفْصَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أنس قال: بلغ صفية أن حفصة قالت: بنت يهودي فبكت فدخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم وهي تبكي فقال: ما يبكيك؟ فقالت: قالت لي حفصة: إني ابنة يهودي فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنك لابنة نبي وإن عمك لنبي وإنك لتحت نبي ففيم تفخر عليك؟ ثم قال: اتقي الله يا حفصة . رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جناب صفیہ کو خبرپہنچی کہ حضرت حفصہ نے انہیں یہودی کی بیٹی کہا ۱∞؎تو وہ روئیں ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے جب کہ وہ رو رہی تھیں فرمایا کیوں روتی ہو آپ بولیں کہ مجھے بی بی حفصہ نے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نبی کی بیٹی ہو۲؎تمہارے چچا نبی ہیں اور تم نبی کی بیوی ہو تو تم پر حفصہ کیسے فخرکرتی ہیں ۳؎پھر فرمایا اے حفصہ اللہ سے ڈرو۴؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بی بی صفیہ حیی ابن اخطب یہودی کی بیٹی تھیں،جناب حفصہ نے بطور طعن یہ کہا اس لیے جناب صفیہ روئیں۔
۲
؎کیونکہ حیی ابن اخطب حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں تھے اور بی بی صفیہ ان کی بیٹی۔خیال رہے کہ حیی ابن اخطب کو اولاد نبی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کفر کیوجہ سے انہوں نے اپنا رشتہ نبی سے توڑ دیا،چونکہ بی بی صفیہ مؤمنہ ہیں لہذا نبی کی اولاد سے ہیں،کفر مؤمن سے رشتہ توڑ دیتا ہے"اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ"کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نہ رہا"اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنْ اَهۡلِكَ
۳
؎یعنی اے صفیہ تم کو تین عظمتیں حاصل ہیں: تم ایک نبی حضرت ہارون کی بیٹی ہو،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھتیجی ہو اور میری بیوی ہو تم کو تین نبیوں سے نسبت حاصل ہے۔خیال رہے کہ حضرت حفصہ بنت عمر کو بھی یہ نسبتیں حاصل ہیں آپ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہیں،حضرت اسحاق علیہ السلام کی بھتیجی ہیں اور حضور کی زوجہ ہیں لہذا مطلب یہ ہے کہ حفصہ تم سے افضل نہیں بلکہ برابر ہیں۔(مرقات)
۴
؎یعنی اے حفصہ طعنے غیبت ایذا رسانی تمہاری شان سے بعید ہے۔گزشتہ سے توبہ کرو آئندہ اس سے بچی رہو یہ باتیں جاہلیت کی عادات سے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6192