Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6186

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلٰى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلٰى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا وَلٰكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةَ فَيَقُولُ: «إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَت وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: ما غرت على أحد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم ما غرت على خديجة وما رأيتها ولكن كان يكثر ذكرها وربما ذبح الشاة ثم يقطعها أعضاء ثم يبعثها في صدائق خديجة فربما قلت له: كأنه لم تكن في الدنيا امرأة إلا خديجة فيقول: «إنها كانت وكانت وكانت وكان لي منها ولد . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج پاک میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر غیرت کی ۱∞؎حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہ تھا ۲؎لیکن حضور ان کا بہت ذکر کرتے تھے بہت دفعہ بکری ذبح کرتے پھر اس کے اعضاء کاٹتے پھر وہ جناب خدیجہ کی سہیلیوں میں بھیج دیتے تھے۳؎تو میں کبھی حضور سے کہہ دیتی کہ گویا خدیجہ کے سوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہ تھی ۴؎تو آپ فرماتے وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہوئی ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غرتبنا ہے غیرت سے یہاں غیرت بمعنی شرم و حیا بمعنی حسد نہیں بلکہ بمعنی رشک یا غبطہ ہے،دینی امور میں رشک جائز ہے۔جناب عائشہ صدیقہ نے حضرت خدیجہ کی محبوبیت دیکھ کر رشک فرمایا کہ میں بھی ان کی طرح حضور انور کی محبوبہ ہوتی کہ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم میری وفات کے بعد اسی طرح تعریفیں فرماتے جیسی ان کی فرماتے ہیں۔خیال رہے کہ جناب عائشہ صدیقہ حضور کی بڑی ہی محبوبہ زوجہ ہیں،آپ کی محبوبیت بی بی خدیجہ کی محبوبیت سے کسی طرح کم نہیں،رشک اس بات میں ہے جو ہم نے عرض کی بعد وفات محبت مصطفی کا جوش۔
۲
؎یعنی جناب خدیجہ میرے نکاح میں آنے بلکہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی وفات پاچکی تھیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی موجودگی میں کسی بی بی سے نکاح نہیں کیا سارے نکاح ان کی وفات کے بعد کیے،حضور کی ساری اولاد بی بی خدیجہ سے ہے سواء جناب ابراہیم کے حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور کو کنواری ملیں اور جناب خدیجۃ کو حضور انور کنوارے ملے آپ مسلمانوں کی پہلی ماں ہیں۔شعر
سیما پہلی ماں کہف امن و امان حق گزار رفاقت پہ لاکھوں سلام
۲
؎یعنی اکثر حضور انور حضرت خدیجہ کی طرف سے بکری ذبح فرماتے انہیں ثواب پہنچانے کے لیے اس کا گوشت ان کی سہیلیوں میں تقسیم فرماتے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ میت کو صدقہ و خیرات کا ثواب بخشنا سنت ہے۔تیسرے یہ کہ میت کے نام کا کھانا اس کے پیاروں دوستوں کو دینا بہتر ہے،اس سے میت کو دہری خوشی ہوتی ہے ایک ثواب پہنچنے کی دوسرے اس کے دوستوں پیاروں کی امداد ہونے کی۔بعض لوگ گیارہویں کا کھانا سیدوں کو،مزارات کے چڑھاوے وہاں کے مجاوروں کو دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے کہ مجاورین اور اولاد میت کو پیارے ہوتے ہیں۔چوتھے یہ کہ میت کو دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے تب ہی تو وہ اپنے پیاروں پر صدقہ کرنے سے خوش ہوتی ہے۔
۴
؎یعنی جب میں حضور انور کی زبان پاک سے ان کی بہت تعریف سنتی تو جوش غیرت میں عرض کرتی کہ یارسول اللہ حضور تو ان کی ایسی تعریفیں کرتے ہیں کہ گویا ان کے سوا کوئی بیوی آپ کو ملی ہی نہیں یا ان کے سواء دنیا میں کوئی بی بی ہے ہی نہیں۔
۵
؎یہاںکانت و کانتمیں جناب خدیجہ کے بہت سے صفات کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ بہت روزہ دار،تہجد گزار،میری بڑی خدمت گزار،میری تنہائی کی مونس،میری غمگسار،غار حراء کے چلّے میں میری مددگار تھیں اور میری ساری اولاد انہیں سے ہے،وہ جناب فاطمہ زہرہ کی ماں ہیں قیامت تک کے سیدوں کی نانی رضی اللہ عنہا۔خیال رہے کہ ام المؤمنین خدیجہ بنت خویلد ابن اسد قرشیہ ہیں،پہلے ابن ہالہ ابن زرارہ کے نکاح میں تھیں،پھر عتیق ابن عابد کے نکاح میں رہیں،پھر چالیس سال کی عمر شریف میں حضور کے نکاح میں آئیں،ہجرت سے تین سال پہلے مکہ معظمہ میں وفات پائی،۶۵ پینسٹھ سال عمر شریف پائی،حضور کے ساتھ پچیس سال رہیں۔(اکمال،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6186