Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6193

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا فاطمة عام الفتح فناجاها فبكت ثم حدثها فضحكت فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم سألتها عن بكائها وضحكها. قالت: أخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه يموت فبكيت ثم أخبرني أني سيدة نساء أهل الجنة إلا مريم بنت عمران فضحكت. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے سال جناب فاطمہ کو بلایا ۱∞؎ان سے کچھ سرگوشی کی آپ روئیں پھر ان سے کچھ بات کی تو آپ ہنسیں ۲؎پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کے ہنسنے کے متعلق پوچھا تو بولیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خبر دی کہ آپ وفات پاجائیں گے۳؎تو میں روئی پھر مجھے خبر دی کہ میں سوا مریم بنت عمران کے جنتی عورتوں کی سردار ہوں۴؎تو میں ہنسی۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ راوی کا وہم ہے،یہ واقعہ فتح مکہ کے سال نہیں ہوا بلکہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال ہوا ہے حضور کی وفات شریف کے قریب جیساکہ پہلے گزر چکا۔(مرقات)
۲
؎پہلے گزر چکا کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ نے اس رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو جناب فاطمہ نے بتانے سے انکار کردیا پھر حضور کی وفات کے بعد ام المؤمنین نے وہ ہی سوال فرمایا تب آپ نے بتادیا۔
۳
؎معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اب قریب ہے یہ علوم خمسہ میں سے ہے۔
۴
؎دوسری روایت میں یہ ہے کہ اے فاطمہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ کو ملوگی یہ دونوں باتیں حضور نے فرمائیں،یہ کلام مبارک بھی اور وہ بھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۵
؎یہ حدیث ازواج مطہرات کے فضائل میں اس لیے لائی گئی کہ اس میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا ذکر ہے اور بی بی مریم بھی حضور کی زوجہ ہیں جنت میں۔(مرقات و اشعہ)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت فاطمہ جناب مریم سے افضل نہیں بلکہ ان کے برابر میں یہ ذکر ہے افضلیت کا،رہی محبوبیت وہ ظاہر ہے کہ جناب فاطمہ کو زیادہ عطا ہوئی۔ ڈاکٹر اقبال نے خوب کہا شعر
مریم ازیک نسبت عیسیٰ عزیز ازسہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمۃ للعالمین آن امام الاولین و آخرین
بانوئے آں تاجدار ھل اتی مرتضٰی مشکل کشا شیر خدا
مادر آں مرکز پر کار عشق مادر آں قافلہ سالار عشق
رشتہ آئیں حق زنجیر پاست پاس فرمان جناب مصطفی است
ورنہ گرد تر تبش گردیدمے سجدہا برخاک دے پاشیدمے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6193