Main Icon

باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6187

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَلْمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشُ هٰذَاجِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ . قَالَتْ:وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرٰى مَا لَا أَرٰى(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي سلمة أن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عائش هذاجبريل يقرئك السلام . قالت:وعليه السلام ورحمة الله. قالت: وهو يرى ما لا أرى(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابوسلمہ سے کہ ۱∞؎حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عائشہ یہ حضرت جبریل ہیں تم کو سلام کہتے ہیں ۲؎انہوں نے جواب دیا کہ ان پر سلام اور اللہ کی رحمت اور بولیں حضور وہ دیکھتے تھے جو میں نہ دیکھتی تھی۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابو سلمہ دو ہیں: ایک تو جناب ام سلمہ کے پہلے خاوند وہ صحابی ہیں،دوسرے ابو سلمہ ابن عبدالرحمن ابن عوف یہ تابعی ہیں یہ ہی یہاں مراد ہیں۔
۲
؎عائشترخیم ہے عائشہ کی،نہایت محبت و پیار میں یہ فرمایا گیا۔اس حدیث کی بناء پر بعض حضرات کہتے ہیں کہ حضرت خدیجہ جناب عائشہ صدیقہ سے افضل ہیں کہ جناب عائشہ کو تو جبریل امین نے سلام کیا اور جناب خدیجہ کو حضرت جبریل نے رب تعالٰی کا سلام پہنچایا۔(مرقات،لمعات)
۳
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھتے تھے اور باوجودیکہ حضرت جبریل میرے گھر میں بلکہ میرے بستر میں میرے پاس ہی حضور انور کی خدمت میں آتے تھے مگر میں انہیں نہ دیکھتی تھی،نور کو دیکھنے کے لیے نور کی آنکھیں چاہئیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کسی کا سلام پہنچائے تو اگرچہ یہ کہنا افضل ہے کہعلیك و علیہ السلاممگر یہ کہنا بھی درست ہےو علیہ السلام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6187