Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5136

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهٗ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: إِنَّ الظَّالِمَ لَايَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهٗ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَلٰى وَاللّٰهِ حَتَّى الحُبَارٰى لَتَمُوتُ فِي وَكْرِهَا هُزْلًا لِظُلْمِ الظَّالِمِ. رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن أبي هريرة أنه سمع رجلا يقول: إن الظالم لايضر إلا نفسه فقال أبو هريرة: بلى والله حتى الحبارى لتموت في وكرها هزلا لظلم الظالم. روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ ظالم صرف اپنے ذات ہی کو نقصان دیتا ہے ۱∞؎تو جناب ابوہریرہ نے فرمایا ہاں الله کی قسم ۲؎حتی کہ بٹیریں اپنے گھونسلے میں دبلی ہوکر مرجاتی ہیں ظالم کے ظلم کی وجہ سے۳؎ان چاروں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎وہ شخص بری نیت سے یہ کہہ رہا تھا،قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کررہا تھا"وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا"مگر اس کی نیت نہ تھی کہ ظالموں کے حمائیتیوں کی صفائی بیان کرے کہ وہ گنہگار نہیں ہوئے حالانکہ ظلم کی حمایت بھی ظلم ہے،حضرت ابوہریرہ نے اس کی نیت فاسد کو سمجھ لیا۔
۲
؎یعنی ظلم اپنی لپیٹ میں بہت کو لے لیتا ہے،ظالم کے حمایتی ساتھ میں رگڑ جاتے ہیں کہ وہ بھی ظالم ہی ہوتے ہیں،چور کی مدد کرنے والے مجرم ہیں۔
۳
؎یعنی جب ظلم بڑھ جاتے ہیں تو بارش بند ہوجاتی ہے جس سے چڑیاں حتی کہ بٹیریں بھی بھوکی پیاسی مرجاتی ہیں،بٹیر بہت دورجاکر دانہ پانی حاصل کرلیتی ہیں،بعض ایسی جگہ بٹیروں سے آشیانوں میں سبزی ملی ہے جو سبزجنگل سے تیس چالیس میل دور ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ قول درست ہے کہ ظالم اپنے نفس پر ہی ظلم کرتا ہے وہاں اخروی ظلم مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ مظلوم پرظلم نہیں کرتا اپنے پر کرتا ہے۔شعر
پنداشت ستم گر کہ جفا برما کرد برگردن او بماند و برما بگزشت

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5136