Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5128

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلٰى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: "اتَّقُوا الظُّلمَ" فِي "بَابِ الإِنْفَاقِ".

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لتؤدن الحقوق إلى أهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء» . رواه مسلم وذكر حديث جابر: "اتقوا الظلم" في "باب الإنفاق".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم لوگ حقوق حق والوں کے سپردکرو گے قیامت میں ۱∞؎حتی کہ منڈی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جاوے گا ۲؎(مسلم)حضرت جابر کی حدیثاتقوا الظلم باب الانفاقمیں ذکر کی جاچکی ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر دنیا میں تم نے لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے تو لامحالہ قیامت میں ادا کرو گے۔دنیا میں مال سے وہاں اعمال سے بہتر ہے کہ یہاں ہی ادا کردو ورنہ پچھتاؤ گے۔
۲
؎یعنی اگر دنیا میں سینگ والی بکری نے منڈی یعنی بے سینگ والی بکری کو سینگ گھونپا تو قیامت میں اس کے سینگ منڈی بکری کو دے دیئے جائیں گے اور وہ اس کے عوض میں سینگ گھونپے گی یہ عوض تکلیف کا نہیں کیونکہ جانور شرعی احکام کے مکلف نہیں بلکہ عوض مقابلہ کا ہے۔بہرحال حقوق العباد میں نبی کی شفاعت نہیں،حقوق العباد کی معافی رب کی طرف سے نہیں،حقوق العباد جانوروں کو بھی اداکرنے ہوں گے آج لوگوں نے یہ ہی آسان سمجھ رکھے ہیں ۔
۳
؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث مکرر تھی،کتاب الزکوۃ باب الانفاقمیں تھی اور یہاں بھی،ہم نے صرف وہاں ایک جگہ بیان کی یہاں بیان نہیں کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5128