Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5125

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ:«لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ» ثُمَّ قَنَّعَ رَأْسَهٗ وَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى اجْتَازَ الْوَادِيَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم لما مر بالحجر قال:«لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إلا أن تكونوا باكين أن يصيبكم ما أصابهم» ثم قنع رأسه وأسرع السير حتى اجتاز الوادي. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مقامِ حجر میں گزرے ۱∞؎تو فرمایا ظالموں کے گھروں میں نہ داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر اس طرح جاؤ کہ تم اس خوف سے روتے ہو کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچے ۲؎جو انہیں پہنچا پھر اپنا سر جھکا لیا اور رفتار تیز فرمالی حتی کہ اس علاقے کو طے کرلیا۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حجر وہ جگہ ہے جہاں صالح علیہ السلام کی قوم یعنی قوم ثمود آباد تھی،یہ جگہ تبوک جاتے ہوئے راستہ میں پڑی اور یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے وہاں عذاب الٰہی آیا تھا اب اس کے کھنڈرات موجود تھے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ جہاں عذابِ الٰہی آچکا ہو وہاں جانا نہ چاہیے کہ وہاں الله کی لعنت برس رہی ہے کہ تم بھی اسمیں گرفتار نہ ہو جاؤ۔اس سے پتہ چلا کہ جہاں الله کی رحمتیں آچکی ہوں وہاں ضرور جانا چاہیے کہ وہاں اب بھی نزول انوار ہے تم بھی اس میں کچھ پالو، مثلًا صفا مروہ پہاڑیاں،منیٰ مزدلفہ،عرفات،یوں ہی حضرات اولیاء الله کے آستانے تا قیامت انوار الٰہی کے مقامات ہیں۔
۳
؎قوم ثمود کے کنویں کا پانی پینے سے بھی حضور نے منع فرمادیا بلکہ جن لوگوں نے اس پانی سے آٹا گوندھ لیا تھا ان کا گوندھا ہوا آٹا بھی پھنکوادیا۔اس سے پتہ لگا کہ مکین کا اثر مکان میں ہوتا ہے،یوں ہی بندوں کا اثر زمانہ میں ہوجاتا ہے۔جس جگہ یا جس وقت الله کے مقبول بندے نے عبادت کی ہو وہ جگہ وہ وقت قبولیت کے ہوجاتے ہیں۔سرکار دو عالم فرماتے ہیں کہ شہر میں بہترین جگہ مسجدیں ہیں اور بدترین جگہ بازار ہیں،اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ اچھے برے لوگوں کی صحبت میں تاثیر ہے۔ (مرقات)مصر میں فرعون پر عذاب نہ آیا لہذا وہاں رہنا ممنوع نہیں،طوفان نوح کفار کے لیے عذاب تھا مگر مؤمنوں کے لیے رحمت لہذا اس کا حکم کچھ اور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5125