Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5124

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ اللّٰهَ لَيُمْلِي لِلظَّالِمِ حَتّٰى إِذَا أَخَذَهٗ لَمْ يُفْلِتْهُ» ثُمَّ قَرَأ (وَكَذٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ) الْآيَة. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته» ثم قرأ (وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة) الآية. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله ظالم کو مہلت دیتا ہے حتی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں ۱∞؎پھر یہ آیت تلاوت کی آپ کے رب کی پکڑ ایسی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے حالانکہ وہ بستیاں ظالم ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ظالم میں تین احتمال ہیں: یا اس سے مراد لوگوں کے حقوق مارنے والا ہے یا مراد مطلقًا گنہگار یا کافر، پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔وہ بندہ خوش نصیب ہے جو پہلے گناہ پر ہی پکڑا جائے،وہ بہت ہی بدنصیب ہے جس کو گناہ پر نعمتیں ملتی رہیں۔گناہ پر جلدی پکڑ نہ ہونا رب تعالٰی کا غضب ہے کہ انسان اس سے دھوکہ کھا جاتاہے۔
تو مشو مغرور برحلم خدا دیر گیرد سخت گیر مر ترا
۲
؎اس آیت کریمہ میں بسیتوں سے مراد ان کفار کی بستیاں ہیں جن پر عذاب الٰہی آیا کہ وہاں کے باشندوں کو اولًا بہت ڈھیل دی گئی۔پھر ہلاک کردیئے گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5124