Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5133

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الدَّوَاوِينُ ثَلَاثَةٌ: دِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللّٰهُ: الْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ. يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ (إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهٖ ) وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُهُ اللّٰهُ: ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ حَتّٰى يَقْتَصَّ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللّٰهُ بِهٖ ظُلْمُ الْعِبَادِ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللّٰهِ فَذَاك إِلَى اللّٰهِ: إِنْ شَاءَ عَذَّبَهٗ وَإِن شَاءَ تَجَاوَزَ عَنهُ "

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"الدواوين ثلاثة: ديوان لا يغفره الله: الإشراك بالله. يقول الله عزوجل (إن الله لا يغفر أن يشرك به ) وديوان لا يتركه الله: ظلم العباد فيما بينهم حتى يقتص بعضهم من بعض وديوان لا يعبأ الله به ظلم العباد فيما بينهم وبين الله فذاك إلى الله: إن شاء عذبه وإن شاء تجاوز عنه "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دفتر تین قسم کے ہیں ۱∞؎ایک وہ دفتر جسے الله نہ بخشے گا وہ الله کا شریک ٹھہرانا ہے ۲؎الله تعالٰی فرماتا ہے کہ الله نہ بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جاوے۳؎اور ایک وہ دفتر ہے جسے الله چھوڑے گا نہیں ۴؎وہ بندوں کے آپس کے ظلم ہیں حتی کہ بدلہ لے گا ان کے بعض کا بعض سے ۵؎اور ایک دفتر وہ ہے جس کی الله تعالٰی پرواہ نہیں کرتا وہ بندوں کا اپنے اور الله کے درمیان حق تلفی ہے ۶؎تو یہ الله کے سپرد ہے اگر چاہے اسے سزا دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرما وے ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بندوں کے گناہوں کے دفتر ان کے نامہ اعمال تین طرح کے ہیں۔دیوان کا ترجمہ ہے رسالہ جس کے جمع کرنے سے کتاب بن جاوے،اس کی جمع ہے دواوین۔
۲
؎یہاں بھی شرک سے مراد کفر ہے یعنی جو بندہ کفر کرکے بغیر توبہ مرجاوے وہ بخشا نہ جاوے گا،آخرت کی بخشش مراد ہے،دنیا میں توبہ کرنے سے شرک و کفر وغیرہ سب معاف ہوجاتے ہیں،حضور انور نے تمام مشرکوں کو ہی کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا تھا۔
۳
؎اس طرح کفر بھی نہ بخشا جاوے گا،ہوسکتا ہے کہ یہاں شرک سے مراد کفر ہو۔خیال رہے کہ کفار کے دوسرے گناہ معاف بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا عذاب ہلکا بھی ہوسکتا ہے جیسے حاتم طائی سخاوت کی وجہ سے،نوشیراں انصاف کی وجہ سے اور ابو طالب حضور کی خدمت کی وجہ سے ہلکے عذاب میں ہیں حتی کہ ابو لہب کو دو شنبہ کے دن عذاب ہلکا کیا جاتا ہےاور اسے انگلی سے پانی ملتا ہے جیساکہ احادیث میں ہے مگر شرک و کفر کی بخشش یا کافر کا جنت میں داخلہ یہ ناممکن ہے۔
۴
؎ان کا حساب مطالبہ ضرور کرے گا نہ بخشنے اور نہ چھوڑنے میں فرق ہے۔
۵
؎بندوں پر ظلم خواہ جانی ہو خواہ مالی خواہ عزت و آبرو کے بہرحال حساب ضرور ہوگا۔اس کے قصاص جاری ہونا رب تعالٰی کا عدل ہے۔مظلوموں سے ظالم کو معافی دلوادینا اس کا فضل،حقوق العباد کے لیے نہ شفاعت ہے نہ رب تعالٰی کی معافی۔
۶
؎یعنی عبادات میں کوتاہی کرنا اس کا حساب ہو یا نہ ہو،پکڑ ہو یا نہ ہو یہ رب تعالٰی کے عدل و فضل پر موقوف ہے وہ بے پرواہ بادشاہ ہے۔
۷
؎خواہ بقدر گناہ سزا دے یا اس سے کم اور درگزر کی کئی صورتیں یا حساب لے کر معاف فرمادے یا حساب بھی نہ لے،اگر دریائے رحمت جوش میں آجاوے تو گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل فرمادے"فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"۔شعر
گنہگار پہ جب لطف آپ کا ہوگا کیا بغیر کیا ہے کیا کیا ہوگا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5133