Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5135

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَوْسِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَشٰى مَعَ ظَالِمٍ لِيُقَوِّيَهٗ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهٗ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَام»

وعن أوس بن شرحبيل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من مشى مع ظالم ليقويه وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام»

حدیث ترجمہ

روایت ہے اوس بن شرحبیل سے ۱∞؎کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی ظالم کے ساتھ اسے قوت دینے کو چلے۲؎حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،شام میں رہتے تھے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔خیال رہے کہ یہ اور صحابی ہیں اور حضرت شرحبیل بن اوس دوسرے صحابی ہیں جو حمص کے رہنے والے ہیں۔یہ حدیث اوس بن شرحبیل سے مروی ہے،صحابی کے حالات معلوم نہ ہونا مضر نہیں کہ سارے صحابہ عادل ہیں۔
۲
؎چلنے سے مراد مطلقًا اس کی ظلم پر مدد دینا ہے خواہ اس کے ساتھ چل کر ہو یا گھر میں بیٹھے بیٹھے پھر خواہ زبان سے ہو یا قلم سے،ظلم کی مدد بہرحال حرام ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ"۔فی زمانہ ظالموں سے زیادہ ظالموں کے حمایتی لوگ ہیں خصوصًا ان ظالموں کے وکیل یا ان کی ظالمانہ حرکتوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والے،ان کی ضمانت دینے والے،انہیں سزا سے چھڑانے کی کوشش کرنے والے سب ہی ظالم ہیں۔
۳
؎یعنی یہ ظالموں کے حمایتی اسلام کے نور سے نکل گئے یا اسلام کی حقیقت سے خارج ہوگئے کہ حقیقت اسلام یہ ہے کہ لوگ اس کے شر سے سلامت رہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5135