Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5129

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا وَلٰكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا وَإِنْ أَسَاؤُوْا فَلَا تَظْلِمُوا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تكونوا إمعة تقولون: إن أحسن الناس أحسنا وإن ظلموا ظلمنا ولكن وطنوا أنفسكم إن أحسن الناس أن تحسنوا وإن أساؤوا فلا تظلموا". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم لوگ تابع نقال نہ بنو ۱∞؎کہ کہو اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے ۲؎لیکن اپنے نفس کو قرار دو کہ لوگ بھلائی کریں تو تم بھی بھلائی کرو اور اگر لوگ برائی کریں تو تم ظلم نہ کرو(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎امعہالف کے کسرہ میم کے شد سے ہے۔امعہوہ شخص ہے جس کی خود اپنی رائے کچھ نہ ہو،جو دوسروں کو کرتے دیکھے خود بھی کرنے لگے یعنی دوسروں کا مقلد۔(ت)مبالغہ کی ہے تانیث کی نہیں اس لیے امعہ عورت پر نہیں بولا جاتا مرد کو کہا جاتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)۲؎یہ فرمان عالی لفظامعہکی شرح ہے۔خیال رہے کہ ظلم کی سزا ظالم کو دینا ظلم نہیں یہ تو اچھا ہے،ہاں ظلم کے عوض ظالم پر ظلم کرنا برا ہے مثلًا چور کے گھر سے اس کا مال چرالینا،جو زید کی بیوی سے زنا کرے تو زید اس زانی کی بیوی سے زنا کرے یہ حرام ہے۔چور کے ہاتھ کاٹنا،زانی کو سنگسار کرنا یہ ہے ظلم کی سزا یہ تو اچھی چیز ہے لہذا حدیث واضح ہے۔ظالم کو سزا اور ظالم پر ظلم کرنے کا فرق ابھی عرض کیا گیا۔یہاں اتنا اور سمجھ لو کہ ظالم کو قانون سے زیادہ سزا دینا بھی ظلم ہے اوریہ بھی حرام ہے،اگر چور کے بجائے ایک ہاتھ کے دونوں ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا اسے قتل کردیا جاوے تو یہ ظلم ہے،ظالم پر بھی ظلم کرنا حرام ہے اس کی بھی پکڑ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5129