Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5131

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ{الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ}شَقَّ ذٰلِكَ عَلٰى أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ!: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهٖٗ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ ذَاكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهٖ(يَابُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ؟) فِي رِوَايَةٍ:«لَيْسَ هُوَ كَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَان لِابْنِهٖ » . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن مسعود قال: لما نزلت{الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم}شق ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالوا: يا رسول الله!: أينا لم يظلم نفسه ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ليس ذاك إنما هو الشرك ألم تسمعوا قول لقمان لابنه(يابني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم؟) في رواية:«ليس هو كما تظنون إنما هو كما قال لقمان لابنه » . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ۱∞؎تو یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ پر گراں گزری۲؎انہوں نے عرض کیا یارسول الله ہم میں سے کون ہے کہ جس نے اپنے پرظلم نہ کیا ہو۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ مراد نہیں ظلم تو شرک ہے۴؎کیا تم نے لقمان کا فرمان اپنے فرزند سے نہ سنا کہ اے میرے بچے شریک نہ ٹھہرا بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جو تم سمجھتے ہو وہ مراد نہیں یہ تو ایسا ہے جیسا لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مشرکین عرب اپنا خالق رازق رب تعالٰی کو جانتے مانتے تھے مگر پرستش بتوں کی بھی کرتے تھے اور حج و عمرہ کے تلبیہ میں کہتے تھےلا شریك لك الاشریكا واحدا،یہ آیت کریمہ ان کی تردید کے لیے نازل ہوئی یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔
۲
؎اس لیے کہ وہ حضرات سمجھے کہ یہاں ظلم سے مراد گناہ ہے اور آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ امن و ہدایت اسے ملے گی جو ایمان لاکر کبھی گناہ نہ کرے،تو سمجھے کہ ایسا شخص دنیا میں کون ہوگا جو کبھی گناہ نہ کرے۔قرآن مجید میں شرک و کفر کو ظلم کہا گیا ہے،گناہ کبیرہ کو بھی، گناہ صغیرہ کو بھی اور بھول و خطا کو بھی جیسے حضرت یونس علیہ السلام کا عرض کرنا"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
۳
؎یعنی ہم مسلمانوں میں گناہ سے کوئی نہ بچا ہوگا۔خیال رہے کہ حضرات صحابہ کرام معصوم نہیں مگر عادل ہیں کہ ان سے بعض حضرات گناہ نہیں کرتے اور بعض سے گناہ ہوجاتا ہے مگر اس پر قائم نہیں رہتے۔
۴
؎مطلب یہ ہے کہبظلمکی تنوین تعظیمی ہے اور معنے یہ ہیں کہ بڑے گناہ یعنی شرک سے اپنا ایمان مخلوط نہ کریں۔خیال رہے کہ یہاں شرک سے مراد کفر ہے کفر عام ہے اور شرک خاص بلکہ قرآن و حدیث میں اکثر شرک سے مراد کفر ہوتا ہے، چونکہ عرب میں شرک ہی مروج تھا اس لیے آیات و حدیث میں اکثر فرمایا جاتا ہے۔
۵
؎حضور صلی الله علیہ وسلم نے قرآن مجید کی تفسیر خود قرآن مجید سے فرمادی۔قرآن کریم ایک جگہ مشرکین عرب کا حال یوں بیان فرماتاہے:"وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشْرِکُوۡنَ"۔خیال رہے کہ ان جیسی آیات میں ایمان سے مراد لغوی ایمان ہے یعنی ماننا شرعی ایمان مراد نہیں لہذا حدیث شریف یا ان آیات پر اعتراض نہیں کہ شرک و ایمان تو ضدیں ہیں پھر جمع کیسے ہوگئے،کفار عرب مشرک ہوکر مؤمن بالله کیسے بن گئے یہ حدیث بالکل صاف ہے۔
۶
؎خیال رہے کہ الله کے مقبول بندوں کو شفیع یا حاجت روا یا مشکل کشا ماننا بوقت ضرورت انہیں مدد کے لیے پکارنا شرک نہیں،یہ چیزیں تو قرآنی آیات و احادیث صحیحہ اور عمل صحابہ رضی اللہ عنھم سے ثابت ہیں بلکہ کسی بندے کو خدا کے برابر یا خدا کو بندہ کے برابر ماننا بھی شرک ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ"اور فرماتاہے:"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔اس کی نفیس تحقیق ہمارے رسالہ اسلام کی چار اصولی اصطلاحوں میں مطالعہ فرماؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5131