Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5126

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ كَانَتْ لَهٗ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهٖ أَوْ شَيْءٍ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِهٖ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهٖ فَحُمِلَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«من كانت له مظلمة لأخيه من عرضه أو شيء منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم يكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس کا اپنے بھائی مسلمان پرکوئی ظلم ہو اس کی آبرو کا یا کسی اور چیز کا ۱∞؎وہ اس سے آج ہی معافی لے لے۲؎اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم۳؎اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو بقدر ظلم اس سے چھین لیے جائیں گے۴؎اور اگر اس کے نیکیاں نہ ہوں گی ۵؎تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس نے اپنے بھائی مسلمان کی ناحق بے آبروئی کی ہو یا اس کا مال مارا ہو یا ناحق دبایا ہو یا کسی اور طرح کا اس پر ظلم کیا ہو۔
۲
؎یعنی اپنی اور اس کی موت سے پہلے اس سے معافی لے لے،آج سے مراد دنیا کے دن ہیں۔معافی مانگنے کی چند صورتیں ہیں:(۱) قرض ہو تو ادا کردے(۲) اسے مارا پیٹا ہو تو قصاص دیدے یا ان تمام سے معافی مانگ لے اور وہ بخوشی معافی کردے (۳) اگر قرض خواہ مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو قرض ادا کردے(۴) اور اگر وارث معلوم نہ ہوں تو اسکے نام پر خیرات کر دے(۵) مرحوم کے لیے ہمیشہ دعائے مغفرت کرتا رہے،اسے ثواب ایصال کرتا رہے مگر اس آخری صورت میں معافی کی امید ہے یقین نہیں۔بہتر یہی ہے کہ خود اس سے معافی مانگے بلکہ یہ کوشش کرے کہ کسی کا حق نہ مارے۔
۳
؎اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو روپیہ پیسہ خرچ کرکے معافی ہوسکتی ہے مگر قیامت میں یہ صورت ناممکن ہے،وہاں نہ تو کسی کے پاس مال ہوگا اور نہ مال کے ذریعہ معافیاں حاصل ہوں گی۔
۴
؎اور مظلوم کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جائیں گے جیسے ظالم کے صدقات خیرات وغیرہ شامل ہیں کہ تین پیسہ قرضے کے عوض مقروض کی سات سو۷۰۰ نمازیں قرض خواہ کو دلوادی جائیں گی،نمازیں بھی وہ جو باجماعت اد اکی ہوں۔اگر قرض خواہ کافر ہے تو اس کا عذاب ہلکا کردیا جائے گا یا اس کے گناہ اس ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے۔
۵
؎یا اس طرح کہ ظالم کے پاس نیکیاں ہوں ہی نہیں یا اس طرح کہ نیکیاں تو تھیں مگر حقوق والے لے گئے،اس کے پاس سے ختم ہوگئیں مگر حقوق باقی رہے۔
۶
؎یا تو اس طرح کہ مظلوم کے گناہ جسمانی شکل میں ہوں اور ظالم پر لاد دیئے جاویں یا ان گناہوں کے عوض ظالم کو سزا دے دی جاوے اور مظلوم کو نجات۔خیال رہے کہ کوئی شخص قیامت میں کسی کا گناہ خود خوشی سے نہ اٹھائے گا لیکن اگر رب تعالٰی کی طرف سے جبرًا ڈال دیا جائے تو انکار بھی نہ کرسکے گا۔اس حدیث کی تائید اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے"وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ"۔حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں اور اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی"اور نہ اس کے خلاف ہے"وَمَا هُمۡ بِحَامِلِیۡنَ مِنْ خَطٰیٰہُمۡ مِّنۡ شَیۡء" نہ اس کے خلاف ہے"لَیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"نہ اس کے خلاف ہے"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ" کہ ان آیات میں بخوشی دوسرے کے گناہ اٹھانے کی نفی ہے ورنہ اس آیت و حدیث میں جبرًا ڈال دیئے جانے کا ثبوت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5126