Main Icon

باب:ظلم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5130

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهٗ كَتَبَ إِلٰى عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ كِتَابًا تُوصِينِي فِيهِ وَلَا تُكْثِرِي. فَكَتَبَتْ: سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللّٰهِ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ اللّٰهُ مَؤُوْنَةَ النَّاسِ، وَمنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللّٰهِ وَكَلَهُ اللّٰهُ إِلَى النَّاسِ" وَالسَّلَامُ عَلَيْك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن معاوية أنه كتب إلى عائشة رضي الله عنها أن اكتبي إلي كتابا توصيني فيه ولا تكثري. فكتبت: سلام عليك أما بعد: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من التمس رضا الله بسخط الناس كفاه الله مؤونة الناس، ومن التمس رضا الناس بسخط الله وكله الله إلى الناس" والسلام عليك. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱∞؎کہ انہوں نے حضرت عائشہ کو لکھا کہ آپ مجھے خط لکھیں جس میں مجھے وصیت کریں اور زیادہ نہ کریں ۲؎آپ نے انہیں لکھا کہ تم پر سلام ہو بعد اس کے کہتی ہوں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کی خوشنودی لوگوں کی ناراضی سے کفایت کرے گا الله اسے لوگوں کی مصیبت سے بچائے گا۳؎اور جو کوئی خوشنودی الله کی ناراضی سے تلاش کرے گا۴؎تو الله اسے لوگوں کے حوالے کردے گا ۵؎السلام علیک ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎معاویہ سے مراد حضرت امیر معاویہ بن سفیان ہیں رضی الله عنہما،آپ خود اور آپ کے والد دونوں مشہور صحابی ہیں،شاید آپ نے یہ خط اپنی حکومت کے زمانہ میں اپنے دارالخلافہ دمشق سے ام المؤمنین کی خدمت میں لکھا۔
۲
؎یعنی جامعہ نصیحت فرمادیں کیونکہ آپ اہلِ بیت نبوت سے ہیں کلمات جامعہ آپ کے ہاں کی خصوصیت ہے مجھے بھی اس سے حصہ دیں۔
۳
؎یعنی جو مسلمان الله کی رضا کے لیے لوگوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرے تو اگرچہ لوگ اس سے ناراض ہو جاویں مگران شاءاللهاس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے،الله تعالٰی اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا،یہ عمل بہت ہی مجرب ہے جس کا اب بھی تجربہ ہورہا ہے۔
۴
؎یعنی ایک کام سے لوگ تو خوش ہوتے ہوں مگر وہ شرعًا حرام ہو،یہ شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے وہ کام کرے،الله تعالٰی کی ناراضی کی پرواہ نہ کرے وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوگا جن کی خوشنودی کے لیے اس نے یہ حرکت کی۔
۵
؎پھر وہی لوگ اس خوشامدی آدمی کو ہلاک یا ذلیل و خوار کردیں گے جنہیں خوش کرنے کو اس نے اپنے رب کو ناراض کرلیا لہذا سب کو راضی کرنے کے لیے رب کو ناراض نہ کرو،کسی کی خوشنودی کے لیے گناہ یا کفر یا شرک نہ کرو۔
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ سنت یہ ہے کہ خط کے اول و آخر میں سلام لکھا جاوے درمیان میں مضمون کو، جناب ام المؤمنین نے یہاں ایسا ہی کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5130