Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3744

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَفِيْ رِوَايَةِ رَزِيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! لَا أَقْضِيْ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، قَالَ: فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يَقْضِيْ فَقَالَ: إِنَّ أَبِيْ لَوْ أُشْكِلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ أُشْكِلَ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهٗ شَيْءٌ سَأَلَ جِبْرِيْلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنِّيْ لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهٗ، وَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ، فَقَدْ عَاذَ بِعَظِيْمِ" وَسَمِعْتُهٗ يَقُوْلُ: "مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ فَأَعِيْذُوْهُ" وَإِنِّيْ أَعُوْذُ بِاللّٰهِ أَنْ تَجْعَلَنِيْ قَاضِيًا فَأَعْفَاهُ، قَالَ: لَا تُخْبِرْ أَحَدًا.

وفي رواية رزين، عن نافع، أن ابن عمر قال لعثمان: يا أمير المؤمنين! لا أقضي بين رجلين، قال: فإن أباك كان يقضي فقال: إن أبي لو أشكل عليه شيء سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولو أشكل على رسول الله صلى الله عليه وسلم له شيء سأل جبريل عليه السلام، وإني لا أجد من أسأله، وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من عاذ بالله، فقد عاذ بعظيم" وسمعته يقول: "من عاذ بالله فأعيذوه" وإني أعوذ بالله أن تجعلني قاضيا فأعفاه، قال: لا تخبر أحدا.

حدیث ترجمہ

اور رزین کی روایت حضرت نافع سے ان کی روایت ابن عمر سے کہ انہوں نے حضرت عثمان سے کہا اے امیر المؤمنین میں تو دوشخصوں کے درمیان فیصلہ نہیں کروں گا ۱؎فرمایا تمہارے والد تو فیصلہ کرتے تھے تو عرض کیا کہ میرے والد پر کوئی مشکل بنتی تو وہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے تھے ۲؎اور اگر رسولصلی اللہ علیہ و سلم پر کوئی چیز مشکل ہوتی تو وہ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھ لیتے تھے۳؎اور میں اسے نہیں پاتا جس سے پوچھوں۴؎اور میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جوکی پناہ مانگے تو اس نے بڑے کی پناہ مانگی اور میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ جوکی پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو اور میںکی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ آپ مجھے قاضی بنائیں۵؎چنانچہ آپ نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا کسی کو خبر نہ دینا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قاضی عام بننا تو بہت دور ہے میں تو پنچ بننے پربھی تیار نہیں،آپ کا یہ فرمان حضرت عثمان غنی کے اس فرمان کے جواب میں ہے جو ابھی گزرا۔
۲
؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت عمر زمانہ نبوی میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے قاضی یا پنچ مقرر ہوتے تھے، یہاں وہ قضا مراد ہے۔
۳
؎اس طرح کہ آپ حضرت جبریل علیہ السلام سے دریافت فرماتے اور حضرت جبریل رب تعالٰی سے پوچھ کر بتاتے تھے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے حضرت جبریل کا علم زیادہ تھا تمام فرشتوں سے حضرت آدم علیہ السلام کا علم زیادہ تھا، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"اور جناب آدم کا علم حضور کے علم کی نسبت سے ایسا ہے جیسے قطرہ سمندر کی نسبت سے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اعلم الخلق ہیں اور یہ حضرت عبدابن عمر کی رائے عالی ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اجتہاد بھی فرماتے تھے،حضرت معاذ کو بھی اجتہاد کی اجازت تھی آپ نے اپنے کو اجتہاد کے لائق نہ سمجھا یہ انکسار تھا،بہرحال حدیث واضح ہے۔
۴
؎اور خود اجتہادکرنے کی ہمت نہیں کرتا۔
۵
؎یعنیکی پناہ لیتا ہوں قضا کے عہدے سے۔اﷲ اکبر!یہ ہے انتہائی احتیاط اور یہ حدیث قضا کی برائی میں انتہائی وعید ہے۔یہاں مرقات نے ابن عساکر سے بروایت حضرت ابی ہریرہ ایک عجیب حدیث مرفوع نقل فرمائی کہ سنگ اسود نے ایک بار بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ مولیٰ میں نے عرصہ دراز تک تیری عبادت کی اور تو نے مجھے گندگی میں ڈلوادیا(قوم عمالقہ نے سنگ اسود کو کئی سو سال گندگی میں ڈالے رکھا تھا)رب تعالٰی نے فرمایا شکر کر کہ میں نے تجھے کسی قاضی کی مجلس میں نہ رکھا کذا فی جامع صغیر السیوطی۔(مرقات)
۶
؎ورنہ یہ باتیں سن کر کوئی قضاء قبول نہ کرے گا اورمحکمہ عدالت معطل ہوکر رہ جائے گا۔خیال رہے کہ قاضی اسلام بننا فرض کفایہ ہے اور اگر کسی وقت لوگ نااہل ہو جائیں تو اہل کو قاضی بننا فرض عین ہوجاتا ہے،اس زمانہ پاک میں عام مجتہد صحابہ موجود تھے اس لیے حضرت ابن عمر نے یہ عہدہ قبول نہ فرمایا،دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام نے جب ملاحظہ فرمایا کہ فی زمانہ کوئی خزائن سنبھالنے کا اہل نہیں تو خود بادشاہ سے فرمایا"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"مجھے خزانوں کا منتظم بنادے،اس وقت آپ پر یہ عہدہ سنبھالنا فرض عین ہوگیا تھا لہذا یہ حدیث اس آیت قرآنی کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3744