Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3732

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَر وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ وَأَصَابَ فَلَهٗ أَجْرَانِ، وإذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ وَأَخْطَأَ فَلَهٗ أَجْرٌ وَاحِدٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن عمر وأبي هريرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا حكم الحاكم فاجتهد وأصاب فله أجران، وإذا حكم فاجتهد وأخطأ فله أجر واحد". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر اور ابوہریرہ سے دونوں فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے ۱؎تو اس کو دو ثواب ہیں ۲؎اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اورغلطی کرے تو اس کے لیے ایک ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎کہ اس کا فیصلہرسول کے فرمان عالی کے مطابق ہوجائے،یہ بھی رب تعالٰی کا کرم ہی ہے کہ انسان کا فیصلہ اس کے منشاء کے مطابق ہوجائے۔
۲
؎ایک ثواب تو اجتہادوکوشش کرنے کا اور دوسرا ثواب درست فیصلہ کرنے کا کہ درستی بھی بڑا عمل ہے،قاضی عالم بلکہ درجہ اجتہاد والا چاہیے،اگر خود عالم و فقیہ نہ ہو تو فقہاء کے علم سے فائدہ اٹھائے ان کا مقلد اور متبع ہو۔
۳
؎یہ حدیث تمام مجتہدین کو شامل ہے کہ مجتہد سے اگر غلطی بھی ہوجائے تب بھی اجتہاد کی محنت کا ثواب ہے لہذا چاروں مذہب یعنی حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی برحق ہیں کہ اگرچہ ان میں سے درست و صحیح تو ایک ہی ہے مگر گناہ کسی میں نہیں بلکہ جن آئمہ مجتہدین سے خطا ہوئی ایک ثواب انہیں بھی ہے،نیز حضرت علی و معاویہ میں گنہگار کوئی نہیں،حق پر حضرت علی ہیں اور جناب معاویہ سے غلطی ہوئی گنہگار وہ بھی نہیں۔ایک موقعہ پر حضرت داؤد علیہ السلام سے خطا ہوگئی اور جناب سلیمان علیہ السلام نے درست فیصلہ فرمایا تو ان دونوں بزرگوں میں گنہگار کوئی نہیں ہوا۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ"۔وہ حدیث کریمہ اس آیت کی تائید کرتی ہے مگر یہ حکم مجتہد عالم کے لیے ہے غیر مجتہد یا غیر عالم اگر غلط مسئلہ بتائے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ غیر عالم کو فتویٰ دینا ہی جائز نہیں اور مسئلہ بھی فروعی اجتہادی ہو اصول شریعت میں غلطی معاف نہیں ہوتی۔اس کی تحقیق کتب اصول اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔اجتہادی خطا کی مثال یوں سمجھئے کہ مسافر جنگل میں نماز پڑھے اسے سمت قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اپنی رائے سے کام لے،اگر چار رکعت میں چار طرف اس کی رائے ہوئی اور اس نے ہر رکعت ایک طرف پڑھی تو اگرچہ قبلہ ایک ہی طرف تھا مگر چاروں رکعتیں درست ہوگئیں اور اس کو نماز کا ثواب یقینًا مل گیا۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں دیکھئے۔
۴
؎یہ حدیث احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ اور نسائی نے بروایت حضرت عمرو ابن عاص نقل فرمائی،احمد نے حضرت ابوہریرہ سے بھی نقل کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3732