Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3738

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثنَي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ : تُرْسِلُنِيْ وَأَنَا حَدِيْثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِيْ بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ سَيَهْدِيْ قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلأَوَّلِ حتّٰى تَسْمَعَ كَلَامَ الآخَرِ، فَإِنَّهٗ أَحْرَى أَنْ يَتَبيَنَ لَكَ الْقَضَاءُ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِيْ قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيْثَ أُمِّ سَلَمَةَ: "إِنَّمَا أَقْضِيْ بَيْنَكُمْ بِرأيِيْ" فِيْ "بَابِ الأَقْضِيَةِ وَالشَّهَاداتِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.

وعن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن قاضيا، فقلت يا رسول الله : ترسلني وأنا حديث السن، ولا علم لي بالقضاء؟ فقال: "إن الله سيهدي قلبك، ويثبت لسانك، إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر، فإنه أحرى أن يتبين لك القضاء"، قال: فما شككت في قضاء بعد. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه. وسنذكر حديث أم سلمة: "إنما أقضي بينكم برأيي" في "باب الأقضية والشهادات" إن شاء الله تعالى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا میں نے عرض کیا یارسول)صلی اللہ علیہ و سلم( آپ مجھے بھیجتے ہیں میں تو نو عمر ہوں اور نہ مجھے قضا کا علم ہے ۱؎تو فرمایاتمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۲؎جب تم سے دو آدمی فیصلہ چاہیں تو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرنا حتی کہ دوسرے کی بات بھی سن لو ۳؎کہ یہ اس کے لائق ہے کہ تم کو فیصلہ ظاہر ہوجائے ۴؎فرماتے ہیں پھر اس کے بعد میں نے کسی فیصلہ میں کوئی تردد نہ کیا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور جناب ام سلمہ کی وہ حدیثإنما أقضي بينكم برأیی ان شاء اﷲفیصلوں اور گواہیوں کے باب میں ذکر کریں گے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مجھے قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے،علم سے مراد تجربہ ہے ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حق تعالٰی نے وہ علم عطا فرمایا تھا جس کی مثال نہیں اور اس عرض کا مقصد حضور سے مدد مانگنا ہے کہ حضور مجھ پر یہ بوجھ رکھ تو رہے ہیں میری مدد بھی فرمایئے جیسے موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا خدایا ہم کو فرعون سے خوف ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا،جانے سے انکار نہیں بلکہ طلب مدد ہے۔
۲
؎یعنی ہمارے فیض سےتعالٰی تمہارے دل کو غلط فہمی سے اور تمہاری زبان کو غلط فیصلہ سنانے سے محفوظ رکھے گا اس ہی کرم کا اثر یہ ہوا کہ حضرت علی جیسا قاضی و حاکم نہ ہوا۔معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ کرم سے علم،حکمت،قضا سب کچھ بیکدم مل جاتا ہے۔ اس مدرسہ میں ایک آن میں فارغ التحصیل کردیا جاتا ہے۔
۳
؎اولیٰ سے مراد مدعی ہے اور ثانی یعنی دوسرے سے مراد مدعیٰ علیہ یعنی جب مدعی و مدعیٰ علیہ دونوں تمہاری عدالت میں حاضر ہوں اور مدعی بیان دعویٰ کرے تو مدعیٰ علیہ کا جواب دعویٰ سنے بغیر فیصلہ نہ کرو کہ دونوں کا بیان سنے بغیر حق و باطل ظاہر نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ ا گر مدعیٰ علیہ کچہری میں حاضر نہ ہو مگر شہر میں یا اور جگہ معلوم میں موجود ہو تو اس کو بذریعہ سمن حاضر کیا جائے اگر غائب ہو پتہ نہ ہو تو بوقت ضرورت غائب کے خلاف قضاء جائز ہے جیسے غائب لاپتہ شخص کی بیوی خرچہ کا دعویٰ کرے تو حاکم خرچہ کا فیصلہ کرسکتا ہے اور خرچہ ناممکن ہونے کی صورت میں نکاح فسخ کرسکتا ہےحضرت امام احمد بن حنبل کے ہاں،احناف کے ہاں بھی،بعض فقہاء کے نزدیک قضاء علی الغائب ضرورۃً جائز ہے۔(شامی،باب النفقہ)
۴
؎فریقین کی حاضری دونوں کا کلام سننا قضا یعنی فیصلہ میں ضروری ہے فتویٰ میں ضروری نہیں کہ فتویٰ صورت مسئلہ کا جواب ہوتا ہے کہ اس بیان کے مطابق شریعت کا حکم یہ ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر ابوسفیان کے خلاف فتویٰ دے دیا،داؤد علیہ السلام نے صرف ایک کا بیان سن کر بغیر دوسرے کا بیان لیے فتویٰ دے دیا ،دیکھو قرآن کریم سورۂصٓ،یہ ہے فتویٰ۔
۵
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان اور اس فیضان کے بعد میں کبھی کسی فیصلہ میں رکا نہیں اور نہ میں نے غلط فیصلہ کیا،یہ تھا فیضان نبوت۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںعلی اقضنا وابن ابی کعب اقرؤناہم سب میں بہترین قاضی علی ہیں اور بہترین قاری حضرت ابی ابن کعب ہیں۔(مرقات)
۶
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی میں نے مناسبت کے لحاظ سے بجائے یہاں کے وہاں بیان کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3738