- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- حدیث نمبر 3738
باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3738
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثنَي رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ : تُرْسِلُنِيْ وَأَنَا حَدِيْثُ السِّنِّ، وَلَا عِلْمَ لِيْ بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ سَيَهْدِيْ قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلأَوَّلِ حتّٰى تَسْمَعَ كَلَامَ الآخَرِ، فَإِنَّهٗ أَحْرَى أَنْ يَتَبيَنَ لَكَ الْقَضَاءُ"، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِيْ قَضَاءٍ بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيْثَ أُمِّ سَلَمَةَ: "إِنَّمَا أَقْضِيْ بَيْنَكُمْ بِرأيِيْ" فِيْ "بَابِ الأَقْضِيَةِ وَالشَّهَاداتِ" إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى.
وعن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن قاضيا، فقلت يا رسول الله : ترسلني وأنا حديث السن، ولا علم لي بالقضاء؟ فقال: "إن الله سيهدي قلبك، ويثبت لسانك، إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر، فإنه أحرى أن يتبين لك القضاء"، قال: فما شككت في قضاء بعد. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه. وسنذكر حديث أم سلمة: "إنما أقضي بينكم برأيي" في "باب الأقضية والشهادات" إن شاء الله تعالى.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھے رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا میں نے عرض کیا یارسولﷲ)صلی اللہ علیہ و سلم( آپ مجھے بھیجتے ہیں میں تو نو عمر ہوں اور نہ مجھے قضا کا علم ہے ۱؎تو فرمایاﷲتمہارے دل کو ہدایت دے گا اور تمہاری زبان کو ثابت رکھے گا۲؎جب تم سے دو آدمی فیصلہ چاہیں تو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرنا حتی کہ دوسرے کی بات بھی سن لو ۳؎کہ یہ اس کے لائق ہے کہ تم کو فیصلہ ظاہر ہوجائے ۴؎فرماتے ہیں پھر اس کے بعد میں نے کسی فیصلہ میں کوئی تردد نہ کیا ۵؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور جناب ام سلمہ کی وہ حدیثإنما أقضي بينكم برأیی ان شاء اﷲفیصلوں اور گواہیوں کے باب میں ذکر کریں گے ۶؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی مجھے قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے،علم سے مراد تجربہ ہے ورنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حق تعالٰی نے وہ علم عطا فرمایا تھا جس کی مثال نہیں اور اس عرض کا مقصد حضور سے مدد مانگنا ہے کہ حضور مجھ پر یہ بوجھ رکھ تو رہے ہیں میری مدد بھی فرمایئے جیسے موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا خدایا ہم کو فرعون سے خوف ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا،جانے سے انکار نہیں بلکہ طلب مدد ہے۔
۲؎یعنی ہمارے فیض سےﷲتعالٰی تمہارے دل کو غلط فہمی سے اور تمہاری زبان کو غلط فیصلہ سنانے سے محفوظ رکھے گا اس ہی کرم کا اثر یہ ہوا کہ حضرت علی جیسا قاضی و حاکم نہ ہوا۔معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ کرم سے علم،حکمت،قضا سب کچھ بیکدم مل جاتا ہے۔ اس مدرسہ میں ایک آن میں فارغ التحصیل کردیا جاتا ہے۔
۳؎اولیٰ سے مراد مدعی ہے اور ثانی یعنی دوسرے سے مراد مدعیٰ علیہ یعنی جب مدعی و مدعیٰ علیہ دونوں تمہاری عدالت میں حاضر ہوں اور مدعی بیان دعویٰ کرے تو مدعیٰ علیہ کا جواب دعویٰ سنے بغیر فیصلہ نہ کرو کہ دونوں کا بیان سنے بغیر حق و باطل ظاہر نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ ا گر مدعیٰ علیہ کچہری میں حاضر نہ ہو مگر شہر میں یا اور جگہ معلوم میں موجود ہو تو اس کو بذریعہ سمن حاضر کیا جائے اگر غائب ہو پتہ نہ ہو تو بوقت ضرورت غائب کے خلاف قضاء جائز ہے جیسے غائب لاپتہ شخص کی بیوی خرچہ کا دعویٰ کرے تو حاکم خرچہ کا فیصلہ کرسکتا ہے اور خرچہ ناممکن ہونے کی صورت میں نکاح فسخ کرسکتا ہےحضرت امام احمد بن حنبل کے ہاں،احناف کے ہاں بھی،بعض فقہاء کے نزدیک قضاء علی الغائب ضرورۃً جائز ہے۔(شامی،باب النفقہ)
۴؎فریقین کی حاضری دونوں کا کلام سننا قضا یعنی فیصلہ میں ضروری ہے فتویٰ میں ضروری نہیں کہ فتویٰ صورت مسئلہ کا جواب ہوتا ہے کہ اس بیان کے مطابق شریعت کا حکم یہ ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر ابوسفیان کے خلاف فتویٰ دے دیا،داؤد علیہ السلام نے صرف ایک کا بیان سن کر بغیر دوسرے کا بیان لیے فتویٰ دے دیا ،دیکھو قرآن کریم سورۂصٓ،یہ ہے فتویٰ۔
۵؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان اور اس فیضان کے بعد میں کبھی کسی فیصلہ میں رکا نہیں اور نہ میں نے غلط فیصلہ کیا،یہ تھا فیضان نبوت۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںعلی اقضنا وابن ابی کعب اقرؤناہم سب میں بہترین قاضی علی ہیں اور بہترین قاری حضرت ابی ابن کعب ہیں۔(مرقات)
۶؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی میں نے مناسبت کے لحاظ سے بجائے یہاں کے وہاں بیان کی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3738