- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- حدیث نمبر 3737
باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3737
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَن رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهٗ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ: "كَيْفَ تَقْضِيْ إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟ " قَالَ: أَقْضِيْ بِكِتَابِ اللّٰهِ، قَالَ: "فَإِنْ لَم تَجدْ فِيْ كتَابِ اللّٰهِ؟ " قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "فَإِنْ لَمْ تَجدْ فِيْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ؟ " قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِيْ وَلَا آلُوْ، قَالَ: فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى صَدْره، وَقَالَ: "الْحَمْدُ للّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللّٰهِ لِمَا يَرْضَى بِهٖ رَسُوْلُ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
وعن معاذ بن جبل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بعثه إلى اليمن قال: "كيف تقضي إذا عرض لك قضاء؟ " قال: أقضي بكتاب الله، قال: "فإن لم تجد في كتاب الله؟ " قال: فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: "فإن لم تجد في سنة رسول الله؟ " قال: أجتهد رأيي ولا آلو، قال: فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على صدره، وقال: "الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله". رواه الترمذي وأبو داود والدارمي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا ۱؎تو فرمایا جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے ۲؎عرض کیا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلہ کروں گا۳؎فرمایا اگر تم رسو ل اللہ کی سنت میں بھی نہ پاؤ عرض کیااپنی رائےسے قیاس کروں گا ۴؎اور کوتاہی نہ کروں گا ۵؎فرماتے ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی)اور فرمایا شکر ہے اس کا جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں ۶؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)
شرح حدیث
۱∞؎وہاں کا حاکم و قاضی بناکر بھیجا تو بطور امتحان یہ سوال فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم و قاضی بنانے کا حق سلطان کو ہے،یہ بھی معلوم ہوا حکومت و قضا سونپنے سے پہلے اس کا امتحان لینا سنت ہے ہے آج بھی قانون پاس کرنے امتحان دینے کے بعد حاکم بنایا جاتا ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۲؎سبحان اﷲ!کیا مبارک سوال ہے یہ نہ فرمایا کہ اگر کتاب و سنت میں نہ ہو کیونکہ قرآن و حدیث میں سب کچھ ہے ہم کو ملے یا نہ ملے،نہ ہونا اور ہے نہ پانا کچھ اور،سمندر میں موتی ہیں مگر ہرکسی کو نہیں ملتے۔
۳؎فیصلہ کی ترتیب یہ ہے کہ اولًا قرآن کریم سے مسئلہ نکالا جائے مگر حدیث شریف کی روشنی میں اگر حدیث قرآن کریم کے مخالف معلوم ہوتی ہے تو تاویل کرکے ان دونوں میں موافقت کی جائے ،اگر موافقت ناممکن ہو تو اگر حدیث متواتر ہو اور نزول آیت کے بعد کی ہو تو آیت کو منسوخ مان کر حدیث پر عمل کیا جائے جیسے تعظیمی سجدے کی اباحت قرآن سے ثابت ہے مگر حرمت حدیث سے ثابت،تو حدیث پرعمل ہے اور تعظیمی سجدہ حرام ہے،اگر یہ شرائط نہ ہوں تو حدیث چھوڑ دی جائے گی قرآن پرعمل ہوگا جیسے قرآن سے ثابت ہے کہ بالغہ لڑکی اپنے نفس کی مختار ہے،خود نکاح کرسکتی ہے"فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ"مگر حدیث سے ثابت ہے کہ بغیر ولی نکاح نہیں کرسکتی"ایماامراۃ نکحت نفسھا نکاحھا باطل باطل باطل۔احناف نے قرآن پرعمل فرماکر عورت کو اپنے نفس کا مختار مانا،اس کی مکمل بحث جاء الحق میں دیکھئے۔
۴؎یعنی اگر مجھے حدیث میں بھی نہ ملے اور حضور سے پوچھنے کا موقعہ بھی نہ ملے تو خود اپنے اجتہاد سے فیصلہ کروں گا۔اجماع امت کا ذکر اس لیے نہ فرمایا کہ زمانہ نبوی میں اجماع ناممکن ہے کیونکہ اس زمانہ میں مسئلہ حضور سے پوچھا جاسکتا ہے،قیاس کے لیے نص نہ ملنا کافی ہے مگر اجماع کے لیے نص نہ مل سکنا ضروری ہے۔
۵؎یعنی قیاس کرتے وقت نص سے استخراج میں کوتاہی نہ کروں گا۔قیاس شرعی کے معنے ہیں علت مشترکہ کی وجہ سے منصوص حکم کو غیرمنصوص میں جاری کرنا۔ہم سے کسی نے پوچھا کہ باجرے،جوار،چاول میں سود کیسا ہے؟ہم نے کہا کہ گندم وجَو میں سود کی ممانعت حدیث پاک میں ہے اور چاول وغیرہ بھی گندم کی طرح وزن وجنس میں ایک ہیں لہذا ان میں بھی سود حرام،یہ ہے قیاس،صرف رائے مراد نہیں۔اس کی مکمل بحث ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول بحث قیاس میں مطالعہ فرمایئے۔
۶؎حضور انور کا آپ کے سینہ پر ہاتھ مارنا یا تو شاباش دینے کے لیے یا اپنا فیض آپ کے سینے میں پہنچانے کے لیے کہ اس کی برکت سے رب تعالٰی انہیں خطا سے بچائے۔اس سے معلوم ہوا کہ فقہاء کے اجتہادات و قیاسات بالکل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مرضی کے مطابق ہیں اور یہ کہ اصول اسلام صرف قرآن و حدیث نہیں بلکہ قیاس مجتہد بھی ہے۔خیال رہے کہ اصول دین چار چیزیں ہیں:قرآن،سنت،اجماع امت و قیاس،اجماع اور قیاس کا ثبوت قرآن کریم سے بھی ہے،دیکھئے ہماری کتاب جاء الحق۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3737