Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3741

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِيْ أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الْقَاضِيْ مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِيْ رِوَايَةٍ: "فَإِذَا جَارَ وَكَلَهٗ إِلَى نَفْسِهٖ".

وعن عبد الله بن أبي أوفى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله مع القاضي ما لم يجر، فإذا جار تخلى عنه ولزمه الشيطان". رواه الترمذي، وابن ماجه، وفي رواية: "فإذا جار وكله إلى نفسه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن ابی اوفی ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قاضی کے ساتھتعالٰی ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے ۲؎پھر جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس سے الگ ہوجاتا ہے ۳؎اور اسے شیطان چمٹ جاتا ہے ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ ظلم کرتا ہے تو رب اس کو نفس کے سپردکردیتا ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبدابن اُنیس جہنی انصاری ہیں،اُنیس کی کنیت ابواوفی ہے،باپ بیٹے دونوں صحابی ہیں،غزوۂ احد،حدیبیہ اور تمام غزوات میں شریک ہوئے،ہمیشہ مدینہ منورہ میں رہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد کوفہ میں قیام رہا،حضرت انیس یعنی ابو اوفی کی وفات مدینہ منورہ میں ۵۴ھ؁ ∞ میں ہوئی۔(مرقات)مگر عبدابن ابی اوفی کی وفات کوفہ میں ۸۷ھ؁ ∞ میں ہوئی۔حضرت عبدابن ابو اوفی ان صحابہ سے ہیں جن سے حضرت امام ابوحنیفہ قدس سرہ کی ملاقات ہے کیونکہ آپ کی وفات کے وقت امام اعظم کی عمر سات سال تھی اورکوفہ میں ان صحابہ کا قیام تھا جو امام اعظم کا وطن ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یعنیتعالٰی اپنی رحمت و مدد کے ساتھ عادل حاکم کے ساتھ ہوتا ہے۔
۳
؎یعنی جو ظلم کرتے ہیں اس کی رحمت و مدد اس سے الگ ہوجاتی ہے،ایک روایت میں ہےتبرأ اﷲ عنہرب تعالٰی اس سے بیزار ہوجاتا ہے۔
۴
؎شیطان سے مراد خاص شیطان ہے جو ظلم کرایا کرتا ہے ورنہ قرین شیطان تو ہمیشہ اس انسان کے ساتھ رہتا ہے جس کے ساتھ پیدا ہوا ہے یعنی پھر خاص ظلم و فساد کرانے والا شیطان اس ظالم حاکم کا ساتھی بن جاتا ہے پھر اس ظالم کی ڈور اس شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے سمجھ لو پھر یہ ظالم کیا کچھ حرکتیں نہ کرے گا۔
۵
؎یعنی پھر ظالم حاکم اپنے نفس امارہ کے سپرد کردیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ ہمارا نفس امارہ شیطان سے زیادہ خطرناک ہے کہ نفس بادشاہ ہے اور شیطان اس کا وزیرومشیر۔ونعوذ باﷲ من شرور انفسنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3741