Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3734

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ ابْتَغَى الْقَضَاءَ وَسَأَلَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهٖ، وَمَنْ أكرِهَ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهٗ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من ابتغى القضاء وسأل وكل إلى نفسه، ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده" رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو حاکم بننا تلاش کرے اور مانگے ۱؎وہ اپنے نفس کو سونپ دیا جائے گا۲؎اور جو اس پر مجبور کیا جائے تواس پر فرشتہ اتارے گا جو اسے درست رکھے گا۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ عملًا قاضی بننے کی کوشش کرے،زبان سے طلب کرے، درخواستیں دے۔ قضا سے مراد مطلقًا حکومت ہے سلطنت ہو یا دوسری حکومت۔(مرقات)مانگنے سے مراد ہے نفسانی خواہش کے لیے مانگنا جیساکہ بارہا عرض کیا جاچکا لہذا یوسف علیہ السلام کا شاہ مصر سے فرمانا:"اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ"اس حکم سے خارج ہے۔
۲
؎یعنی ایسے طالب جاہ حاکم کی مددتعالٰی نہیں کرے گا اسے اس کے نفس کے حوالہ کردے گا اور ظاہر ہے کہ ہمارا نفس ہمارا بڑا دشمن ہے جولاحولسے بھی نہیں بھاگتا رمضان میں قید نہیں ہوتا۔
۳
؎یعنی ایسے بے نفس قاضی کی بذریعہ فرشتہ مدد ہوتی رہے گی جس سے وہ ظلم وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔طبرانی نے بروایت ام سلمہ مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو قضا میں مبتلا ہو اسے چاہیے مقدمہ کے دوران فریقین میں برابری کرے جگہ دینے میں،بات کرنے میں، دیکھنے میں،اشارہ کرنے میں اسی طرح بیہقی نے حضرت ام سلمہ سے مرفوعًا روایت کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3734