Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3736

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ قَضَاءَ الْمُسْلِمِيْنَ حتّٰى يَنَالَهٗ، ثُمَّ غَلَبَ عَدْلُهُ جَوْرَهٗ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ غَلَبَ جَوْرُهُ عَدْلَهٗ فَلَهُ النَّارُ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من طلب قضاء المسلمين حتى يناله، ثم غلب عدله جوره فله الجنة، ومن غلب جوره عدله فله النار". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مسلمانوں کا قاضی بننا طلب کرے حتّی کہ اسے پالے ۱؎پھر اس کاانصاف اس کے ظلم پر غالب ہو تو اس کے لیے جنّت ہے ۲؎اور جس کا ظلم اس کے انصاف پر غالب ہو اس کے لیے دوزخ ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث نے ان تمام حدیثوں کی شرح کردی جن میں قضا کی برائیاں ارشاد ہوئیں یعنی خود کوشش کرکے قاضی و حاکم بننے والا۔
۲
؎عدل کے ظلم پر غالب آنے کے معنی یہ ہیں کہ حاکم کا انصاف اس کے ظلم پر اس طرح غالب آجائے اور اس کی طبیعت پر ایسا چھاجائے کہ اسے ظلم نہ کرنے دے،یہ مطلب نہیں کہ وہ عدل بھی کرتاہو اور ظلم بھی مگر عدل زیادہ کرتاہو اور ظلم کم کیونکہ ایک ظلم بھی ظالم کا بیڑا غرق کرنے کے لیے کافی ہےلہذا حدیث بالکل واضح ہےاس پر کوئی اعتراض نہیں۔(لمعات و اشعۃ اللمعات)یہ توفیق اس حاکم کو ملتی ہے جو حکومت سے متنفر ہو رب کی طرف سےاسے حاکم بننا پڑجائے۔
۳
؎ظلم کے عدل پر غالب ہونے کی دوصورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلم اس کی عادت بن جائے وہ کبھی انصاف کرے ہی نہیں۔دوسرے یہ کہ ظلم زیادہ کرے انصاف کم،یہ دونوں حاکم دوزخی ہیں۔خیال رہے کہ ایک ظلم بھی کیفیت کے لحاظ سے ہزار انصاف پر غالب ہے اگرچہ کمیت کے لحاظ سے کم ہے،ایک قطرہ پیشاب سارے کنویں کو ناپاک کردیتاہے،یہاں غلبہ ظلم سے مراد کیفیت کاغلبہ ہے لہذا یہ خبر بھی واضح ہے۔شارحین نے اس حدیث کی اور بہت توجیہیں کی ہیں مگر یہ توجیہ قوی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ عدل سے مراد اجتہاد کی صحت ہے اور ظلم سے مراد اجتہاد کی غلطی ہے جس حاکم کا اجتہاد و استنباط زیادہ ترکتاب و سنت کے خلاف ہوتاہو بہت کم درست ہوتاہو وہ حاکم نہ بنے اگر بنے گا اور اپنے غلط اجتہاد سے فیصلے کرے گا تودوزخی ہوگا۔مرقات نے اسے ترجیح دی ہے اس کی تائیدگزشتہ حدیث سے ہورہی ہے کہ جو حاکم جاہل ہوکر فیصلے کرے وہ دوزخی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3736