Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3743

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ عُثْمَانَ اِبْنَ عَفَّانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، قَالَ: أَوَ تُعَافِيْني؟ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! قَالَ: وَمَا تَكْرَهُ مِنْ ذٰلِكَ، وَقَدْ كَانَ أَبُوْكَ يَقْضِيْ؟ قَالَ: لِأَنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "مَنْ كَانَ قَاضِيًا فَقَضَى بِالْعَدْلِ، فَبِالْحَرِيِّ أَنْ يَنْقَلِبَ مِنْهُ كَفَافًا"فَمَا رَاجَعَهٗ بَعْدَ ذٰلِكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن موهب: أن عثمان ابن عفان قال لابن عمر: اقض بين الناس، قال: أو تعافيني؟ يا أمير المؤمنين! قال: وما تكره من ذلك، وقد كان أبوك يقضي؟ قال: لأني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من كان قاضيا فقضى بالعدل، فبالحري أن ينقلب منه كفافا"فما راجعه بعد ذلك. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن موہب سے ۱؎کہ حضرت عثمان ابن عفان نے جناب ابن عمر سے فرمایا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرو ۲؎آپ نے عرض کیا اے امیر المؤمنین مجھے معاف رکھیں گے۳؎فرمایا تم اس سے نفرت کیوں کرتے ہو حالانکہ تمہارے والد فیصلے فرمایا کرتے تھے۴؎عرض کیا اس لیے کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو قاضی ہو پھر انصاف سے فیصلے کرے تو اس لائق ہے کہ اس سے برابر برابر۵؎لوٹے اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ نہ فرمایا ۶؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدابن موہب ہے،تابعی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کے زمانہ میں ان کی طرف سے فلسطین کے حاکم تھے تقویٰ و طہارت میں مشہور تھے۔(اشعہ)
۲
؎یعنی حکومت عثمانیہ کی طرف سے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کرلو۔
۳
؎یہ سوال طلب مہربانی کے لیے ہے یعنی کیا میں آپ کے لطف وکرم سے یہ امید کروں کہ آپ مجھے اس عہدے سے معاف رکھیں۔اکبر آج ہم عہد ے ڈھونڈھتے ہیں اور ان حضرات کو عہدے ڈھونڈھتے تھے۔
بہ بین تفاوت راہ کجا است تابہ کجا
۴
؎یعنی آپ کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ رسالت اور زمانہ صدیقی میں بھی لوگوں میں فیصلے فرمایا کرتے تھے خلیفہ تو بعد کو بنے پھر تم قضاء سے کیوں متنفر ہو۔
۵
؎حریبروزن فعیل صفت مشبہ ہےحریبمعنی لائق ہونے کا،بزائدہ ہے اوربالحریمبتداء ہے اوران ینقلباس کی خبر، بعض نسخوں میںحریٰح کے فتحہ الف مقصورہ سےہے مصدر تب یہ خبر مقدم ہے اور بعد کی عبارت مبتداء مؤخر دونوں ترکیبوں کے معنی ایک ہی ہیں۔(لمعات)کفافًاک کے فتحہ سےکفکا مصدرکفافکے لغوی معنے ہیں برابر کہ نہ بچے نہ بڑھے جیسے کہتے ہیںلا لی ولا علییہینقلبکے فاعل سے حال ہے،ہوسکتا ہے کہ بمعنیمکفوفہویعنی اس کی شر سے بچایا ہوا یعنی عادل و منصف قاضی کے لیے یہ ہی غنیمت ہے کہ کل قیامت میں اس کا چھٹکارا ہوجائے کہ نہ پکڑ ہو نہ ثواب ملے۔جب عادل قاضی کا یہ حال ہے تو جو قاضی ایسا ہوکہ قاضی بہ رشوت راضی اس کا کیا حال ہوگا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان عالی میں وہ قاضی مراد ہیں جو اپنی کوشش سے قضا حاصل کریں لہذا یہ حدیث گزشتہ ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں عادل قاضی کے فضائل بیان ہوئے کہ اس کی اجتہادی غلطی پر اسے ایک ثواب ہے اور درستی پر دوہرا ثواب ،یہ حضرت عبدابن عمر کی انتہائی احتیاط ہے کہ حضرت عثمان غنی کی پیش کردہ قضا کو بھی قبول نہیں فرماتے اور اس فرمان عالی کو اپنے جیسے بے نفس متقی ہستی پر چسپاں فرماتے ہیں فتویٰ اور ہوتا ہے تقویٰ کچھ اور۔
۶
؎یعنی حضرت عثمان غنی نے پھر جناب عبدپر قبول قضاء کے لیے زور نہ دیا۔خیال رہے کہ قضا کی طلب اس کے لیے گناہ تھی اور انصاف کرنا ثواب تو مطلب یہ ہوا کہ ایسا طالب جاہ قاضی اگر عدل و انصاف کرے اور یہ عدل وانصاف اس کے طلب قضا کے گناہ کا کفارہ ہی بن جائے تب بھی غنیمت ہے لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3743