Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3740

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَمَنَّى أَنَّهٗ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِيْ ثَمْرَةٍ قَطُّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ليأتين على القاضي العدل يوم القيامة يتمنى أنه لم يقض بين اثنين في ثمرة قط". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ عادل قاضی پر قیامت کے دن وہ وقت آئے گا ۱؎کہ وہ آرزو کرے گا کہ اس نے کبھی بھی دو شخصوں کے درمیان ایک چھوہارے کے بارے میں فیصلہ نہ کیا ہوتا ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یوم القیامۃیا تولیاتینکا فاعل ہے اوریوممرفوع اوریتمنیحال یعنی عادل حاکم پر قیامت کا دن اس حال میں آئے گا کہ وہ حاکم یہ آرزو کرے گا۔یالیاتینکا فاعل پوشیدہ ہےوقتیابلاءوآفۃاوریوم القیامۃظرف ہے منصوب اوریتمنیاس پوشیدہ فاعل کا حال یعنی قیامت کے دن عادل حاکم پر ایسی ساعت یا آفت آجائے گی کہ وہ یہ آرزو کرے گا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںیوم القیامۃسے پہلےساعۃہے۔یہ گھڑی قیامت کا اول وقت ہوگا جب کہ حضرات انبیاء کرامنفسی نفسیفرمائیں گے جب حق تعالٰی کے عدل کا ظہور ہوگا،پھر شفاعت کا دروازہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے کھل جائے گا تب رب تعالٰی کے فضل کے ظہور کا وقت ہوگا،جب چھوٹے بچے فوت شدہ بھی نازکرکے اپنے ماں باپ کی شفاعت کے لیے رب تعالٰی سے جھگڑیں گے، عادل کا ذکر مبالغہ کے لیے ہے کہ جب عادل اور منصف حاکموں کے خوف کا یہ حال ہوگا تو ظالم حکام کا کیا پوچھتے ہو،ان کا حال تو بیان میں آسکتا ہی نہیں۔
۲
؎عادل حکام کی یہ آرزو اس الجھاوے اور درازی حساب کی وجہ سے ہوگی جو انہیں عدل و حکومت کے حساب دینے میں پیش آئے گی، وہ دیکھیں گے کہ دوسرے لوگ معمولی حساب دے کر جنت کو چلے گئے ہم ابھی حساب میں ہی الجھے ہوئے ہیں،جیسے حدیث شریف میں ہے کہ میری امت کے اولیاء پرگزشتہ انبیاء کرام رشک کریں گے یعنی ان کی بے فکری آزادی دیکھ کر جیسے غریبوں کی آزادانہ زندگی دیکھ کر بادشاہ رشک کرے ،قرآن کریم نے فرمایا:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)"یہاں انبیاءنہ ارشاد ہوا کیوں،اس لیے قیامت کے دن رنج و فکر و خوف سے آزادی صرف اولیاءکو حاصل ہوگی،رہے حضرات انبیاء کرام انہیں غم جہان ہوگا یعنی ساری امت کی فکر اور ہم جیسے گنہگاروں کو غم جان لینے یعنی اپنی فکر۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی ان عادل حکام کے لیے جن کا حساب ہو،جو بغیر حساب جنتی ہوں وہ اس حکم سے خارج،جیسے حضرت سلیمان و داؤد علیہما السلام یا حضرات خلفاءراشدین لہذا حدیث صاف ہے واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3740