Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3739

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ حَاكمِ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ إِلَى السَّمَاءِ،فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهْ أَلْقَاهُ فِيْ مَهْوَاةٍ أَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما من حاكم يحكم بين الناس، إلا جاء يوم القيامة وملك آخذ بقفاه، ثم يرفع رأسه إلى السماء،فإن قال: ألقه ألقاه في مهواة أربعين خريفا". رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی حاکم ۱؎جو لوگوں کے درمیان فیصلے کرے مگر قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا پھر اس کا سر آسمان تک اٹھالے گا ۲؎تو اگر رب فرمادے کہ اسے پھینک دے تو وہ اسے ہلاکت کی جگہ پھینک دے گا۳؎چالیس سال کی راہ ۴؎(احمد، ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎حاکم سے مراد ظالم حاکم ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر حاکم مراد ہے خواہ عادل ہو یا ظالم۔
۲
؎اگر حاکم سے ظالم مراد ہے تورأسہکی ضمیر حاکم کی طرف ہے یعنی اس کی گردن پکڑ کے اس کا سر اوپر کو اٹھائے گا جیساکہ مجرموں کے ساتھ کیا جاتاہے اور اگر ہر حاکم مراد ہے تورأسہکی ضمیر فرشتہ کی طرف ہے یعنی انتظار حکم میں فرشتہ اپنا سر اوپر کو اٹھائے گا کہ مجھے کیا حکم ملتا ہے۔
۳
؎مہواۃبنا ہےھواءسے بمعنی خلاءوفضا،مہواۃکے معنے ہوئے فضاوہوا کی جگہ یعنی محل ہلاکت،اس سے مراد جہنم کا گہرا گڑھا ہے جس کی گہرائی رب تعالٰی ہی جانتا ہے۔
۴
؎خریف سال کے خاص موسم کا نام ہے جو سردی وگرمی کے درمیان ہوتا ہے ربیع کا مقابل،اس سے مراد سال ہے،جزءبول کر کل مراد ہے جیسےرأسیعنی سر بول کر انسان مراد لیتے ہیں،خریف سال میں ایک ہی بار آتی ہے یعنی ایسے گہرے گڑھے میں پھینکتا ہے کہ وہ حاکم ظالم کنارہ سے گر کر چالیس سال میں اس کی تہ تک پہنچتا ہے۔خدا کی پناہ! اور اگر حاکم عادل ہے تو اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ اسے جنت میں پہنچادے تو اسے اعلیٰ مقام پر پہنچادیا جاتا ہے،پہلے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ گردن پکڑنا ظالم ہی کے لیے ہوگا، عادل حاکم تو نور کے منبر پر ہوں گے جیساکہ پہلےگزرچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3739